خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 6
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 6 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء ان کا کسی امیر سے یا پریذیڈنٹ سے سیکرٹری مال سے اختلاف تھا اور ایسی اور بھی مثالیں ہونگی۔میں ہر جماعت میں نہیں گیا لیکن بعض جماعتوں کو میں نے دیکھا ہے اور ایسی کئی مثالیں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔تو یہ امورا ایسے نہیں ہیں کہ جن امور کو دیکھنے کے بعد ہم خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ہم یہ دعوے کرتے رہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ محبت ہے۔ہم یہ دعوے کرتے رہیں کہ ہمیں خدا اور اس کے رسول محمد مصطفی میں اللہ سے محبت ہے اور پھر یہ دعوے دنیا کے سامنے پیش کریں اور بڑے بڑے بلند بانگ دعوے کریں اور بڑی بڑی تقاریر میں اپنے کاموں کا اظہار کریں، اپنی کوششوں کا اظہار کریں اور کہیں کہ ہم ساری دنیا کومسلمان بنارہے ہیں اور جب مڑکر دیکھیں، جب گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو کہ ہمارے اندر بعض گہرے مرضوں نے دخل دے دیا ہے، ناخن ڈال لئے ہیں، اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔اگر ابھی سے ہم نے ان کی بیخ کنی نہ کی تو یقیناً یہ رفتار احمدیت کی قائم نہیں رہ سکتی۔یہ گرے گی اور گر رہی ہے اگر ہم نے ابھی سے اپنے ان مسائل کی طرف توجہ نہ دی اور ان مرضوں کو ان کی جڑوں سے اکھیڑ کر نہ پھینک دیا تو پھر احمدیت کی ترقی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔احمدیت کی ترقی تو ضرور ہوگی یہ میں نے کیا کہا کہ احمدیت کی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی لیکن ہاں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو ترقی کریں گے۔احمدیت کا زندگی بخش پیمانہ ضرور چلے گا۔یہ پیمانہ جو چکر میں آیا ہے یہ چلے گا اور قوموں کو زندہ کرے گا لیکن اگر ہم نے اس پیمانہ کی طرف توجہ نہ دی، اگر ہم نے محنت اور جد وجہد کے ساتھ اس کو نہ چلایا تو یہ چلتے چلتے رک جائے گا اور رک رک کر چلے گا۔ہاں ہوسکتا ہے کہ ہم اس سے سیراب نہ ہوں ، ہوسکتا ہے کہ ہم اس سے فیضیاب نہ ہوں اور دوسری قومیں، باہر سے آنیوالی قومیں، دیر سے آنیوالی قومیں آئیں اور اس پیالے سے فیضیاب ہو کر زندگی کی لذت حاصل کریں۔اس لئے ضروری ہے، توجہ کے قابل چیز ہے توجہ کریں اور سوچیں اور غور کریں کہ وہ کونسا نظام ہے ہمارے اندر جو اس ہماری زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے؟ وہ کونسا نظام ہے جو ہماری دیہاتی جماعتوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے؟ یہ نظام در حقیقت وقف جدید ہی کا نظام ہے جو تمام دیہاتی جماعتوں میں ایک جال کی طرح