خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 7
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 7 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء پھیل جائے گا۔اگر جماعت توجہ کرے گی تو انشاء اللہ یہ نظام ہر ہر گاؤں میں ہر ہر قصبے میں ہر ہر قریہ میں پہنچے گا ہر گھر کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے اور ان احمدیوں کو بیدار کیا جائے گا اور جو آج غافل ہورہے ہیں۔ان احمدیوں کو بیدار کیا جائے گا اور وہ خطرے کا الارم سنایا جائے گا جو خطرے کا الا رم آج فضا میں بج رہا ہے۔پس آج ہمارے پاس اتنے افراد نہیں ہیں کہ ہم ان کو آسانی کے ساتھ ضائع کر سکیں۔ہماری تعداد تھوڑی ہے کام بہت زیادہ ہے۔ایک ہمالہ پہاڑ ہے جو ہمارے سروں پر کھڑا ہے اور اس کو اٹھانے کی بظاہر ہم میں سکت نظر نہیں آتی۔اتنا کام ہے اتنا کام ہے کہ جس کے خیال سے دل کا پنپنے لگتا ہے۔آج وقت تو یہ تھا کہ ہم اپنے بچے بچے کو آواز دے کر بلا لیتے اور کہتے کہ آؤ اور مسیح موعود کا اس بوجھ اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ آؤ اور مسیح موعود کے محمد اور حواری بن جاؤ ، آپ کے انصار میں داخل ہو جاؤ کجا یہ کہ ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں کہ ہمارے بچے بڑے ہورہے ہیں اور ان کا رستہ وہ ہے جو احمد بیت سے دور جارہا ہے۔ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں کہ ہماری اولا دیں تعلیم تو حاصل کر رہی ہیں لیکن خالصہ دنیاوی تعلیم اور ان کو دین سے کوئی لگاؤ باقی نہیں رہا۔یہ دیکھیں اور یہ دیکھنے کے باوجود اور باوجود ان دعووں کے کہ ہم نے ساری دنیا کی تربیت کرنی ہے، باوجود یہ دیکھنے کے کہ ہم اپنی اولاد کی بھی تربیت نہیں کر سکتے۔اگر ہم یہ دعوے کریں تو ہم دنیا کو کیا منہ دکھا ئیں گے ؟ کس عمل سے ان دعووں کو سچا کر دکھا ئیں گے؟ اس لئے ضرورت ہے غور کرنے کی سوچنے کی۔آج ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر اس تحریک کو زندہ کرنے کے لئے جد و جہد کریں جو تحریک اسلام کی زندگی کے لئے کوشش کر رہی ہے جو تحریک آج احمدیت کی تربیت کی ضمانت دے رہی ہے۔وقت کم ہے کام زیادہ ہے۔پس اے میرے بزرگو! اے میرے بھائیو اور بچو! اے ماؤں بہنوں بیٹیو! خوابوں کی دنیا میں نہ رہو اور عمل کے میدان میں اتر آؤ۔اے میرے بھائیو! اور اے میرے بزرگو! اے بچو! اے ماؤں بہنوں بیٹیو! خوابوں کی دنیا میں نہ رہو اور عمل کے میدان میں اتر آؤ کہ عمل ہی میں زندگی ہے اور عمل کے علاوہ سارے افسانے ہیں ساری خواہیں ہیں اور کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اگر ہم نے زندہ رہنا ہے اگر ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے جیسا کہ ضرور احمدیت نے زندہ رہنا ہے اور احمدیت نے دنیا کو فتح کرنا ہے تو ہمیں حقیقت کے میدان میں اترنا پڑے گا۔ہمیں ترقیات کرنی ہوں گی لیکن نیچے