خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 84
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 84 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء ہم نے اپنی خواہشوں کو اپنا خدا بنا رکھا تھا اور ہر ایک گناہ کا ارتکاب ہم خوشی کے ساتھ کرتے تھے۔رحم و مروت ہم میں نام کو باقی نہ رہی تھی ، ہمارا ظلم وطغیان حد سے بڑھ چکا تھا۔شراب اور قمار بازی ہمارا وطیرہ بن چکی تھی۔پڑوسیوں کو ستانا، یتیموں کا مال کھا جانا ، مسافروں کو لوٹنا ہمارا دن رات کا شیوہ تھا۔امانت، دیانت، صدق اور صداقت سے ہم کوسوں دور ہو چکے تھے۔زبر دست زیر دستوں پر ظلم کرنے میں نہایت دلیر تھے۔دوسروں کا حق مارنے اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے میں ہمیں مزہ آتا تھا۔غرض ہم مذہبی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے نہایت ذلیل حالت میں تھے مگر خدا تعالیٰ نے ہم پر اپنا خاص فضل نازل کیا اور ہم میں ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا جس کے حسب نسب کی بزرگی سے ہم واقف تھے۔جس کے اعلیٰ اخلاق اور جس کی امانت ، دیانت اور سچائی اور دیانت کا ہم میں سے ہر شخص معترف تھا۔اس رسول نے ہم کو خدائے واحد ویگانہ کی پرستش کی تعلیم دی۔بت پرستی سے روکا۔سچ بولنے، امانت میں خیانت نہ کرنے ، لوگوں سے رحم و مروت کے ساتھ پیش آنے ، فواحش کو ترک کرنے اور عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا۔غرض اس نے ہمیں ہر ایک بری بات سے اجتناب کرنے کا حکم دیا اور ہر ایک اچھی بات پر عمل کرنے کا ارشاد فرمایا۔“ سيرة النبي و لا بن هشام جلد اصفحه: ۱۸۱) جیسا کہ حضرت جعفر کے بیان سے بھی ظاہر ہے آنحضور ﷺ کی بعثت سے پہلے عربوں کی دنیا ایک شاعروں اور شرابیوں ، فاسقوں اور فاجروں کی دنیا تھی جس میں راہزن تو بہت تھے لیکن رہنما کوئی نہ تھا۔وہاں انسان انسان کو غلام بنائے ہوئے تھا اور بظاہر آزاد کہلوانے والے آقا خود رسم و رواج کے اسیر تھے۔وہ ظلم وستم کی ایک اندھیر نگری تھی جہاں بغض وعناد ملتے تھے اور عفو کا کوئی وجود نہ تھا قتل ناحق اس عہد کا دستور تھا اور اکل حرام کی وہاں حکمرانی تھی کمزور طاقتور کے مظالم کا تخیہ مشق تھا لیکن مظالم کا ہاتھ روکنے کی کسی میں طاقت نہ تھی۔ان حالات میں آنحضور کا ظہور ہوا جو سراج منیر بن کر اس تاریک دنیا پر چمکے۔پھر آپ کی قوت قدسیہ نے یہ عجیب معجزہ دکھایا کہ ۱۳ سال کی نہایت