خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 81
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 81 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۱۶۹ء بے حقیقت ہو کر رہ گئے۔کچھ ایسے رنگ میں اس نے خدائے حمید و قدوس کی تحمید و تقدیس کی کہ فرشتوں کی تحمید و تقدیس اس کے سامنے ماند اور پھیکی پڑگئی اور وہ سرنگوں اپنی لاعلمی کا اقرار کرنے لگے۔کچھ اس شان اور عجیب قوت کے ساتھ بنی نوع انسان کو آلائشوں سے پاک کیا کہ ہزاروں لاکھوں نفس کے بندوں کو رب العزت کے بندے بنایا ، قدوسیوں کی صف میں لا کھڑا کیا وہ دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا۔اس کی قوت قدسیہ نے مادر زاد اندھوں کو شفا بخشی اور اچانک دنیا نے یہ دیکھا کہ وہ دیکھنے لگے ہیں۔پیدائشی بہروں اور گونگوں کو قوت سماعت و گویائی عطا کی اور معاوہ سننے اور بولنے لگے۔لولوں اور لنگڑوں کو اس کے دست شفا نے اچھا کر دیا اور تیزر و توانا قدموں کے ساتھ وہ روحانی بلندیوں کی طرف دوڑنے لگے۔صدیوں کے بیمار ہزار آزار لئے ہوئے اس کے پاس آئے اور دیکھو دیکھو کہ اس کی ایک جاں بخش نظر سے اچھے ہو گئے وہ جس کی دست نورانی کی پر تو سے کتنے ہی نخیف ہاتھ طاقت ، شوکت اور توانائی اور نور سے بھر گئے اور ید بیضا کی طرح چمکنے لگے۔وہ جس کے غلامان در کے ہاتھوں کے عصا کفر و باطل کے لئے عصائے موسیٰ سے بڑھ کر ثابت ہوئے۔وہی ہمارا آقا جس کی حیات آفریں سانسوں نے صدیوں کے مردوں کو زندہ کیا اور جس کی مٹھی نے عرب کی ویران اور بے روح خاک کو ہاتھوں میں لیا تو ابو بکر و عمر، عثمان وعلی پیدا ہوئے۔ہاں وہی ہمارا آقا دل و جان سے پیارا وہی محبوبوں میں محبوب محمد م جس کے سانسوں کی مہک نے لاکھوں مردوں کو زندہ کر دیا اور کتنے ہی زندوں کو مسیحا بنادیا۔آج زمانہ شاہد اور چاند سورج گواہ ہیں اور آپ اور میں اور سب روئے زمین پر بسنے والے غلامان غلام احمد شہادت دیتے ہیں کہ یہ اسی رسول عربی کی قوت قدسیہ تھی جو شعاع نور بن کر تیرہ صدیوں کا سینہ چیرتی ہوئی گزری اور ایک عاشق غلام کے دل پر نازل ہوئی۔اس نور نے اس سینے کو بھر دیا اور زمین و آسمان حیرت سے یہ معجزہ دیکھنے لگے کہ پنجاب کی مٹی سے اس زمانے کا مسیح پیدا ہوا۔وہی ہمارا آقا ہمارے دل و جاں سے زیادہ پیارا آقا جس کا جمال جمال خداوندی کے بعد اپنی ہرشان میں بے مثال تھا۔وہ جس کے عکس رُخ کی تاثیر سے چہروں کے نقوش جلد جلد اپنی ہئیت بدلنے لگتے تھے اور دیکھتے دیکھتے جمال کے قالب میں ڈھل جاتے تھے۔وہ حسینان عالم کو شرمندہ کرنے والے حسن جس کے مقابل پر حسن یوسف کی شمع بے نور دکھائی دینے لگی اور جس کے پر تو نے ہزاروں چہروں