خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 80

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 80 60 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء بعثت کی التجا کی گئی تھی مگر خدائے حیبی و قیوم جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا نہ تو اپنے بندے ابراہیم ہی کو بھولا تھا نہ ان پاکیزہ آنسوؤں میں بھیگی ہوئی دعاؤں کو۔پس اس وقت جبکہ شرک نے دنیا پر خوب خوب اپنا تسلط جما لیا حتی کہ توحید کے مرکز خدا کے پہلے گھر پر بھی بتوں نے پنجے گاڑ دیئے اور خدائے واحد کی بجائے ہبل اور لات و منات کی پرستش ہونے لگی، عین ظلم کی اس انتہاء کے وقت جب فساد خشکی پر بھی پھیل گیا اور تری پر بھی اور دنیا رشد و ہدایت سے یکسر خالی ہوگئی ،سرزمین عرب نے ایک عجیب تر ماجرہ دیکھا اور عرب کے زمین و آسمان اس بات پر گواہ ٹھہرے کہ دعائے ابراہیم کا ایک ایک لفظ مقبول ہوا تھا۔ابراہیم کی دعاؤں کا ثمرہ آیا اور غار حرا سے تو حید کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ نور کی کرنیں بکھیر تا ہوا طلوع ہوا۔وہ آسمان ہدایت کا بادشاہ آیا، وہ دنیائے رشد کا مزگی پیدا ہوا، وہ نبی آیا جس کی طرف بائبل نے اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے وہ نبی“ کہہ کر اشارہ کیا، قدوسیوں کا وہ شہنشاہ جلوہ افروز ہوا جس کی محبت کے گیت داؤد نے اپنی زبور میں گائے۔وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا !! تیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ فقیروں کا ملجی اسیروں کا مالوی اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا پڑا ہر طرف غل وہ پیغام حق سے کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے وہ بجلی کا کڑکا تھا یا خوف ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی (مسدس حالی صفحه : ۱۵) آج میں اسی مقدس وجود کے ذکر کے لئے کھڑا ہوا ہوں جس کی قوت قدسیہ نے دنیا کو عجیب اور بے مثل کام دکھائے اور زمان و مکان کے فاصلے اس کی پاک کر دینے والی قوت کے سامنے