خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 79
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 79 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء نبی کریم ﷺ کی قوت قدسیہ بر موقع جلسه سالانه ۱۹۶۶ء منعقده ۳۶، ۲۷، ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: آج سے چار ہزار برس پہلے کا یہ واقعہ ہے کہ عرب کے ایک لق و دق صحرا میں خانہ کعبہ کی دیواریں از سر نو بلند کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ دعائیں کیں۔کیا ہی عجیب اور پاکیزہ وہ ماحول تھا جبکہ باپ معمار اور معصوم بچہ مزدور بنے ہوئے اپنے رب کی محبت میں سرتا پا سرشار ایک ایک اینٹ عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ رکھ رہے تھے۔اس وقت انہوں نے اور دعاؤں کے علاوہ اپنے رب سے ایک ایسی مراد بھی مانگی جو مراد اس سے پہلے کسی انسان نے انسان کے لئے نہ مانگی تھی۔انہوں نے اپنے رب کے حضور یہ التجا کی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة:١٣٠) وہ وقت گزر گیا اور نہ تو حضرت ابراہیم زندہ رہے نہ حضرت اسماعیل بلکہ ان کی کتنی ہی نسلیں یکے بعد دیگرے اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔دنیا والے تو حید اور خدا پرستی کے ان اسباق کو یکسر بھلا بیٹھے جو حضرت ابراہیم اور ان کی پاک نسلوں نے ایک دوسرے کے بعد دنیا کو دیئے تھے۔دیوار کعبہ کے پاس کی ہوئی وہ مقدس دعا ئیں کسی کو یاد نہ رہیں جن میں خدا تعالیٰ سے ایک عظیم الشان رسول کی