خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 75
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 75 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء راتوں کو اٹھتا اور اپنے رب کے حضور گریہ وزاری میں بسر کرتا ہے۔وہ غم ملت میں بھی گداز ہے اور غم انسانیت میں بھی۔وہ ایسی مسلسل محنت اور مشقت کا عادی ہے کہ جو بڑے بڑے سور ماؤں کو چند دن میں چور چور کر دے۔ظلم کی حد ہے کہ ایک ایسے شخص کی بیماری کو ایک ایسے بد بخت کی بیماری اور ہلاکت کے مشابہ قرار دیا جاوے جو تکبر اور فرعونیت میں اپنی مثال نہ رکھتا تھا۔جس کی ساری زندگی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دین کی توہین و تحقیر میں برباد ہوئی۔جس نے سرور دو عالم کے ایک عاشق غلام کو سخت حقارت کے ساتھ نعوذ باللہ زمین کا ایک کیڑا قرار دیا کہ جسے جب چاہے وہ اپنے پاؤں تلے مسل دے لیکن انجام کار وہ خود اپنے ہی تکبر کے بے رحم پاؤں تلے مسلا گیا اور زمین کے ذلیل ترین کیڑوں سے بھی بدتر حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔کیا ان دونوں بیماریوں میں ان کی کینہ ور آنکھ کوئی امتیاز نہیں کر سکتی؟ کاش اس پیارے وجود کے متعلق جس پر ایسے بہیمانہ حملے کر رہے ہیں وہ کچھ جانتے جو ہم جانتے ہیں ! کاش وہ جانتے کہ بنی نوع انسان کا ایسا ہمدرد دل دنیا کے پردے پر شاذ و نادر ہی ظاہر ہوا کرتا ہے۔کاش وہ جانتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دین کا عشق کم کم دلوں میں اس زور سے موجیں مارتا ہے۔کاش وہ دین اسلام کے لئے اس در دوالم سے واقف ہوتے ، وہ اس کرب و اضطراب سے آشنا ہوتے جس میں ہمیشہ دین محمد کے افکار نے اسے مبتلا کئے رکھا۔کاش ایسا ہوتا تو وہ اپنے دلوں کی سفا کی کے باوجود ہمارے اس محبوب امام پر ایسے ظالمانہ حملے نہ کرتے اور اس خدا کے قہر سے ڈرتے جس کے قبضہ قدرت میں ہم ناچیز انسانوں کی بے حقیقت جانیں ہیں۔کیا یہ بے باک جو اس بیماری کو ایک جھوٹے مدعی کی ہلاکت سے تشبیہ دیتے ہیں نہیں جانتے کہ ایک جھوٹے مدعی کی ہلاکت محض اس کی ذات کی ہلاکت نہیں ہوتی بلکہ اس کے سارے سلسلہ کی شہ رگ کاٹ دی جاتی ہے۔دیکھوڈوئی کے ساتھ خدا کے غضب نے کیا سلوک کیا؟ اس کی جماعت ہی کی صف لپیٹ دی اور اس کی بسائی ہوئی بستی ایسی اجڑی کہ اس میں گدھوں کے ہل چل گئے۔اس نے اپنی تباہی اور بربادی کا یہ حسرت ناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور انہی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کے جان نثار کہلانے والے سخت بے چارگی اور کرب کی حالت میں اسے پیٹھ دکھا کر چلے گئے اور جس نے بھی