خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 72

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 72 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ چوکھٹ پر بھی سر رکھنے کے اہل نہیں۔مجھے تو حیرت ہے کہ اہل پیغام میں سے شریف النفس احباب کی شرافت اور انسانیت یہ برداشت کیسے کرتی ہے کہ پیغام صلح کے بھیس میں لیٹے ہوئے ایسے زہرناک اعلانات جنگ پسران مسیح موعود کی طرف بھیجے جائیں۔میں نے آج کی تقریر کے لئے اہل پیغام کے دو ایسے اعتراض منتخب کئے ہیں جو گویا ان کے اسلحہ خانہ کے مضبوط ترین ہتھیاروں میں سے ہیں۔پہلا ایک اصولی نوعیت کا اعتراض ہے اور دوسرا ذاتی نوعیت کا جس سے اولاد مسیح کے خلاف ان کے کھولتے ہوئے بغض کے اظہار کے سوا اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔اعتراض اول یہ ہے کہ ان کے نزدیک عقلاً یہ ممکن ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد اس قدر جلد مصلح موعود ظاہر ہو کیونکہ اصلاح کا تصور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے پہلے فساد کا دور دورہ ہو۔وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ احمدیت پر بھی فساد کا دور نہیں آیا اس لئے مصلح موعود کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ناممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد اس قدر جلد خرابی کا دور آجائے اور ایک اور مصلح کی ضرورت پیش آجائے۔اول تو اس اعتراض پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہ خود اپنے ہی پاؤں تلے سے زمین نکالتا ہے۔دعویٰ تو یہ ہے کہ چونکہ اس قدر جلد فساد ظاہر نہیں ہو سکتا اس لئے مصلح موعودا بھی سو دو سو سال تک نہیں آسکتا اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ چونکہ مصلح موعود ا بھی آنہیں سکتا اس لئے جماعت قادیان نے ایک مصلح موعود بنا کر فساد عظیم کھڑا کر لیا ہے۔گویا جس سانس میں یہ دعویٰ ہے کہ اتنی جلدی فساد کا سوال پیدا نہیں ہوتا اسی سانس میں یہ دعویٰ بھی ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے وصال کے چھ سال بعد ہی فساد کا ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ جماعت کی بھاری اکثریت اس کی لپیٹ میں آکر ہلاک ہوگئی حتی کہ نعوذ باللہ خود حضرت اقدس علیہ السلام کی ساری کی ساری اولا د بھی بلا استثناء اس کا شکار ہوگئی۔پس یہ دلیل کہ چونکہ اس قدر جلد فساد برپا نہیں ہوسکتا اس لئے مصلح موعود کی ضرورت نہیں خود اپنی ذات میں فساد عقل اور تضاد کا ایک شاہکار ہے۔اس اعتراض کا دوسرا بڑا نقص یہ ہے کہ یہ جس دعوئی پر مبنی ہے وہ محض ایک فرضی دعوی ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔معلوم ہوتا ہے اعتراض کرنے والوں نے ایک سرسری نظر سے