خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 65

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 65 59 پیشگوئی مصلح موعود ۶۴۶۹۱ کر دکھائے گا۔پھر جب چیلنج قبول کرنے والے میدان میں نکل آئے اور دنگل تیار ہو گیا۔سب دنیا کی تماشائی نگاہیں اس نبرد آزمائی کو امید وبیم کے ساتھ دیکھنے لگیں تو اپنے رب سے مراد یہ مانگی کہ اے میرے محبوب ! اپنی محبت کا یہ ثبوت دیجیو کہ میری پہلی نسل کو تو حاسدوں ، کینہ وروں اور دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیجیو۔ان میں مفسد تو ہوں ، مگر مصلح کوئی نہ ہو۔دین اسلام کے مرتبہ کو گرانے والے تو ہوں ! بلند کرنے کی توفیق کسی کو نصیب نہ ہو رسوائیاں اور ذلتیں تو نعوذ بالله من ذالک ان کے مقدر میں رکھ دیجیو اور اگر نشان رحمت عطا فرماتا ہے تو تجھے تیری عزت وجلال کی قسم ! میرے ان بچوں کو عطا نہ فرمائیو۔ہاں سو دو سو سال کے بعد بے شک جو کچھ میں نے تجھ سے مانگا ہے میرے کسی دور کے روحانی یا جسمانی بیٹے کو عطا فرما دیجیو۔مجھے تو بس یہی غم کھائے جارہا ہے کہ کہیں میری اولا دہی کو تیری رحمتیں نصیب نہ ہو جائیں۔پس رحم فرما اور یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔پیغامی موقف کو اگر قبول کریں تو بات نہیں بنتی جب تک کچھ اس قسم کی دعا کو حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف منسوب نہ کریں اور ساتھ ہی یہ بھی ایمان نہ رکھیں کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے اس مزعومہ دعا کو قبول بھی فرمالیا اور ان التجاؤں کے جواب میں کچھ اس قسم کی تسلی دی کہ فکر نہ کراے میرے پیارے بندے! میں تیرے مقصد کو خوب سمجھتا ہوں۔چنانچہ اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا ہے میں تیرے اپنے بیٹوں کے قریب تو رحمت کو پھٹکنے تک نہ دوں گا اور نشان رحمت صرف ایک بہت دور کے نام کے بیٹے کو عطا کرونگا تا کہ تیری سچائی اور مجھ سے تیرا تعلق ظاہر ہو۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ۔ہوسکتا ہے یہ موقف رکھنے والے منکرین خلافت ایسا ہی دل و دماغ رکھتے ہوں کہ جب کائنات کا بادشاہ ان کے دل کی مراد پوچھے اور فرمان جاری ہو کہ مانگو مجھ سے کیا مانگتے ہو تو وہ رورو کر اس کے حضور اپنی اولاد کی ہلاکت کی تمنا کریں مگر خدارا! خدا کے مسیح سے تو یہ غیر معقول توقع مت رکھو۔اے اہل پیغام ! کیا تم میں کوئی ایک بھی مرد رشید نہیں ہے؟ کیا فہم و ادراک سے تمہیں کوئی دور کا بھی علاقہ نہیں ؟ کیا تمہارے کان وہ بشارات سننے سے بھی عاری ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح کو اس کی اولاد کے حق میں دیں، اس کے ان بیٹوں کے حق میں دیں جو حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم نوراللہ مرقدھا کے بطن سے پیدا ہوئے؟ تم کیوں نہیں سنتے کہ خدا کا مسیح کیا کہتا ہے: