خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 59
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 59 پیشگوئی مصلح موعود ۶۴۶۹۱ میں ایک بے مثال سوز و گداز کی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔یہی جذبہ جہاد تھا جس نے آپ کو اپنے رب سے ایک جانشین مجاہد اسلام مانگنے پر مجبور کیا۔ایک ایسا جانشین مانگنے پر مجبور کیا جو آپ کے شایان شان ہو اور آپ ہی کے رنگ میں رنگین ہو کر علم اسلام کی سربلندی کے لئے تازیست جہاد کرتا رہے ایک مقدس جنگ میں آپ کے اسلحہ خانے کا سب سے زیادہ قوی اور کارگر ہتھیار تعلق باللہ کا ہتھیار تھا اور اسی ہتھیار کی قوت اور شوکت میں آپ کی قوت اور شوکت کا راز مضمر ہے۔یہی وہ تیغ برانِ محمدؐ تھی جو لیکھرام کو ترساں کرتی رہی اور یہی وہ آسمانی بجلی تھی جو بعد میں ڈوئی اور اس کے بسائے ہوئے صیون پر گری۔یہی تھی وہ ھاویہ جس میں آتھم کو گرایا گیا جس کی ہیبت سے سراسیمہ ہو کر اس کا دن کا چین اٹھ گیا اور راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔زندگی کا سر چشمہ لیکن یہ محض ایک تباہ کن ہتھیار نہ تھا بلکہ زندگی کا سرچشمہ بھی یہی تھا۔موسمی کا عصا بھی یہی تھا اور دم عیسی بھی یہی۔اسلام کی سچائی کے ایک نا قابل رد ثبوت کے طور پر بھی آپ نے اسی تعلق باللہ کو پیش فر مایا اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ چیلنج دیا کہ اگر فی الواقع تمہارے مذاہب سچے ہیں تو پھر اپنے میں سے ایسے وجود تو پیش کرو جن کو تمہارے مذہب کی پیروی نے اللہ تعالیٰ سے ملا دیا ہو۔آپ نے فرمایا کہ اسلام کی سچائی کا اس سے روشن تر اور کیا تم ثبوت مانگتے ہو کہ میں نے اسلام کی تعلیم پر چل کر اسی دنیا میں اپنے رب کو پالیا ہے۔وہ میرے دشمنوں کا دشمن ہے اور دوستوں کا دوست اور میری خاطر حیرت انگیز کام دنیا کو دکھاتا ہے۔پس ہر وہ شخص جو پاک دل لے کر تحقیق حق کی خاطر میرے پاس آئے اور کچھ عرصہ ٹھہرے وہ خود اپنی آنکھوں سے اس تعلق باللہ کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔آپ نے یہ چیلینج صرف اپنے ہم وطنوں ہی کو نہیں دیا بلکہ کثرت کے ساتھ اس مضمون کی مسجل چٹھیاں یورپ اور امریکہ کے مختلف باشندوں کو بھجوائیں۔مصلح موعود کی پیشگوئی سے اس چیلنج کا تعلق یہ چیلنج گویا انذار اور تبشیر کی دودھاری تلوار تھی جو کبھی تو جلال کی بجلی بن کر دشمن کو خاکستر کرتی اور کبھی جمال کے جادو سے دلوں پر فتح یاب ہوتی تھی۔یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ متواتر نازل