خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 60

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 60 60 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ ہونے والی تائیدات الہیہ کے کرشمے تھے جن کا نظارہ کروانے کے لئے کل دنیا کو آپ نے ایک دعوت عام دے رکھی تھی۔ان خطوط کا علم پا کر قادیان کے بعض ہندوسا ہوکاروں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک درخواست ارسال کی کہ ہم لوگ جو آپ کے ہمسایہ اور ہم شہری ہیں۔لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ حقدار ہیں۔۔۔۔۔۔ہمیں ایسے نشان ضرور چاہئیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں جن سے معلوم ہو سکے کہ وہ سچا اور پاک پر میشر بوجہ آپ کی راستبازی دینی کے عین محبت اور کرپا کی راہ سے آپ کی دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے اور قبولیت دعا سے قبل از وقوع اطلاع بخشتا ہے یا آپ کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کرتا ہے اور بطور پیشگوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے۔“ (ساہوکاران و دیگر ہند و صاحبان قادیان کا خط بنام مرزا صاحب مرزا مخدوم و مکرم مرزا غلام احمد صاحب تبلیغ رسالت جلد اصفحه: ۵۱،۵۰) قادیان کے ہندوؤں کا یہ مطالبہ نشان مصلح موعود کے ظہور کا ایک ظاہری اور فوری سبب بن گیا۔چنانچہ اس مطالبہ کو پورا کرنے کی خاطر آپ نے ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جا کر وہ مشہور چلہ کشی اختیار کی پورا جس کی تضرعات کو سن کر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور آپ کو نشان رحمت کے طور پر ایک عظیم الشان بیٹے کی ولادت کی خوشخبری عطا کی گئی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھے سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپائیہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے اور فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے، اے مظفر! تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے