خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 58
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 58 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء بے بہا بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔ایمان کہیں ماضی میں کھویا گیا اور قرآن شریا کی طرف اٹھ گیا۔جرى الله في حلل الانبیاء کی آمد اس کسمپرسی اور ناطاقتی کی حالت میں جب کہ چاروں طرف سے سو قسم کے دشمنوں نے مسلمانوں کو نرغے میں لے رکھا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میدان جنگ میں قدم رکھا۔اسلام کا یہ بطل جلیل جب تیغ بر ان محمد سے آراستہ دعاؤں کے ہتھیار سجائے ہوئے دشمنان اسلام کی طرف بڑھا تو خدا گواہ ہے کہ اس کے رعب اور اس کی ہیبت سے رن کانپنے لگا۔فاتح مفتوح ہوئے ، فتح وشکست کی کایا پلٹ دی گئی اور دشمن کے کیمپ میں ہر طرف بے مہابا بھگدڑ مچ گئی۔آسمان نے گواہی دی کہ دیکھو! دیکھو! وہ جرى الله في حلل الانبیاء آیا اور زمین بھی اس کی تعریف میں یوں مدح سرا ہوئی کہ اسلام کی جانی و مالی قلمی ولسانی ، حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔“ (اشاعۃ السنہ جلدے نمبر ۶ صفحه ۱۲۹) یہ تھا دین اسلام کا وہ پہلوان جس نے جب اسلامی جنگوں کی باگ دوڑا اپنے ہاتھ میں لی تو حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آگیا اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔اے فتح نصیب جرنیل ! اے محمد عربی کے مایہ ناز غلام ! بے شمار رحمتیں ہوں تجھ پر اور تیرے محبوب آقا پر کہ جس کی ناموس کی خاطر تو نے یہ سب بار ا ٹھایا۔اے مظفر! تجھ پر سلام کہ تیرے ہی آنے سے اسلام کے کیمپ میں فتح کے شادیانے بجے اور قدوسیوں نے حمد کے گیت گائے۔آپ کا ایک بے مثل ہتھیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسلوب جنگ اور فنون حرب کا مضمون بڑا وسیع اور دلچسپ مضمون ہے جس کے تفصیلی بیان کا یہاں موقع نہیں البتہ اس کے ایک پہلو کا تعلق براہ راست میرے آج کے مضمون سے ہے اور اسی پہلو کی دلفریبی کا ہم چند لمحوں کے لئے نظارہ کریں گے۔نشان مصلح موعود ایک ثمرہ ہے اس جذبہ جہاد اور درد اسلام کا جس نے آپ کے قلب وجگر