خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 55
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 55 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء وہ سزا تھی اور اسی نے ان جملہ گناہ گاروں پر تقسیم ہونا تھا تو پھر تو ہر گناہ گار کے حصہ میں شاید ایک ایک لحہ کے کروڑویں کروڑویں حصہ کی سزا بطور موت کے آتی ہوگی اس سے فرق ہی کیا پڑتا تھا، یہ سب کفارہ کا طوفان کھڑا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ اس قلیل عرصہ کی موت کا تو کسی گناہ گار کو احساس بھی نہ ہوتا اور عرصہ سزا گزر بھی جاتا، عدل کا تقاضا بھی بعینہ پورا ہو جاتا اور جذ بہ رحم و کرم پر بھی کوئی زد نہ آتی۔لیکن اگر مسیح کی تین دن کی صلیب کی موت کو اس سزا سے کوئی بھی نسبت نہیں جس کے یہ تمام بنی آدم سزاوار تھے تو پھر عقل کو یہ پوچھنے کا حق پہنچتا ہے کہ وہ باقی سزا کیا ہوئی ؟ اگر کہا جائے کہ معاف کر دی گئی تو اس تین لفظی جواب ہی میں کفارہ کی ساری فرضی عمارت دھوئیں کی طرح اڑ جاتی ہے۔کیونکہ جو عادل خدا اپنے عدل کی وجہ سے بغیر بدلہ کے معاف نہیں کر سکتا تھا اس نے اب معاف کیسے کر دیا ؟ یہ مثال کہ جس طرح ایک مقروض کا قرض ایک دوسرا ادا کر سکتا ہے انسانی گناہوں کے مسئلہ پر چسپاں نہیں ہوسکتی۔اگر گناہ کے فلسفہ کی بحث نہ بھی اٹھائی جائے تب بھی ظاہر ا جو عمل نظر آتا ہے اس کی رو سے اگر چہ ایک مقروض کے قرض کی ادائیگی تو دوسرا کر سکتا ہے مگر دوسرے بے شمار ایسے جرائم ہیں جن میں ایک کی سزا دوسرے کو نہیں دی جا سکتی۔کیا ایک قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو پھانسی دی جاسکتی ہے؟ کیا ایک زانی کی جگہ دوسرے کو کوڑے مارے جاسکتے ہیں ؟ کیا ایک چور کی جگہ کسی دوسرے کے ہاتھ کاٹے جاسکتے ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس مثال کو مسئلہ کفارہ پر چسپاں کرنا عقل و فہم کے ساتھ ایک تمسخر نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ گناہ گاروں میں چور بھی ہیں اور قاتل بھی اور زانی بھی۔کیا ان سب کے جرموں کی سزا قرض کے طور پر قابل انتقال ہے؟ اس بحث میں یہ سوال بار بار مختلف موقعوں پر اٹھایا گیا ہے کہ ایک گناہ گار کی سزا ایک معصوم کود بینا بڑا بھاری ظلم ہے۔ہوسکتا ہے کہ کوئی عیسائی دوست اس کا یہ جواب دیں کہ اگر کوئی معصوم اپنی مرضی سے کسی گناہ گار کی سزا قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو اس صورت میں یہ سز اظلم نہیں بنتی کیونکہ ذمہ داروہ عادل نہیں بلکہ وہ معصوم ہو جاتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تسلیم کرنے سے اول تو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ کیا عادل خدا کا فیصلہ اور معصوم بیٹے کی پیش کش دو الگ الگ فیصلے تھے؟ دوسرے یہ کہنا واقعۂ صلیب کے بھی صریحاً خلاف ہے کیونکہ خود انجیل کے بیان کے مطابق مسیح سزا سے پہلی رات