خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 54
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 54 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء ہم نے اس نظریہ کو عقلاً صرف مفروضہ کے طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ سزا دینے کے لئے ایک معصوم کی تلاش کی اس لئے ضرورت درپیش ہے کہ جتنے انسان یا شیطان اس کا ئنات میں موجود ہیں وہ سارے کے سارے اتنے گناہ گار ہیں کہ جو زیادہ سے زیادہ سزا ان کو دی جاسکتی تھی وہ دی جا چکی ہے اور اس کے علاوہ مزید بوجھ اٹھانے کی ان میں طاقت نہیں رہی اور خدا کے بیٹے کے سوا کوئی شخص اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا۔اگر بات یہی تھی تو پھر طبعا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ جب ایک انسان کے گناہ اس کو ابد الآباد تک کے لئے مطعون کر سکتے ہیں تو پھر کائنات کے تمام انسانوں اور شیطانوں کی سزا یکجائی صورت میں کیسی ہولناک اور کتنی بے حد و پناہ نہ ہوگی۔لیکن جب مسیح کو اس طوعاً سزا کا جو پہلے ظالموں کی بھی ہے اور اگلے ظالموں کی بھی اور کالے گناہ گاروں کی بھی ہے اور گورے گناہ گاروں کی بھی مورد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو بے اختیار غالب کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے کہ تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشا نہ ہوا (دیوان غالب صفحه: ۵۹) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ عدل کے نام پر ایسی بے انصافی ، ایسا تمسخر کہ جب آدم نے گناہ کیا تو اس کی سزا یہ ٹھہری کہ ہمیشہ کے لئے جنت سے نکالا گیا،موت کا سزاوار ٹھہرا اور ہمیشہ کے لئے اس کی نسلوں میں گناہ کی سرشت بھر دی گئی جس کے نتیجہ میں سب نے بلا استثناء ایسے ایسے گناہ کئے کہ سوائے ابدی لعنت اور موت کے ان کے لئے اور کوئی سزا قرار نہ پائی لیکن جب یہ لامتناہی سزا خود اپنے بیٹے کو دینے کا سوال پیدا ہوا تو یہ صرف تین دنوں کی عارضی موت میں تبدیل کر دی گئی۔صرف یہی نہیں بلکہ شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ اس سزاوار کو مردوں میں سے بلایا گیا اور وہ عرش معلیٰ پر خدا کے داہنے ہاتھ جا بیٹھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو چھوڑ دو اس کا تو عدل کے نام پر بار بارخون ہو چکا۔صرف اس مسئلہ ہی کو حل کر دو کہ جب کفارہ کی بناء ہی یہ قرار دی گئی تھی کہ اپنے عدل کی وجہ سے خدا معاف نہیں کر سکتا تو پھر اچانک یہ معافی کی اہلیت خدا میں کہاں سے آ گئی؟ گناہ کی سزا کے طور پر کیا تین دن کی موت ہی وہ سزا تھی جو آدم اور بنی آدم اور جملہ شیاطین میں تقسیم ہوئی تھی ؟ اگر یہی