خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 51

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 51 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء دوسرے کو دے دے اور اس قدر بڑھا چڑھا کر دے کہ ایک آدم کی ایک لمحہ کی لغزش کی سزار بوں ارب بنی آدم کو ایک لامتناہی مدت تک دیتا چلا جائے اور پھر اچانک محض اس لئے کہ وہ عادل ہے اربوں ارب انسانوں کی لامتناہی لعنتوں کے بدلہ میں ایک معصوم کو تین روز کی لعنت کا شکار کر دے۔عیسائیت کے خدا کے عدل کا ایک یہ بھی عجیب تقاضا ہے کہ گناہ گار انسان کو سزا سے بچانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ان کی سزا کسی معصوم کو دے دی جائے۔حیرت ہوتی ہے کہ اس عدل کو کیا نام دیا جائے؟ ظلم کہیں یا جنون یا سفا کی یا پھر اس کا نام تمسخرکھ دیں کہ وہ عدل جو عیسائی دنیا خدا کی طرف منسوب کر رہی ہے ان تمام صفات کا ایک حیرت انگیز امتزاج ہے جو تثلیث کے امتزاج سے کسی طرح بھی کم نہیں یہ عدل ایک ہی وقت میں عدل بھی ہے اور ظلم بھی اور حماقت بھی پھر بھی ایک ہی ہے یعنی عدل۔پس اس لحاظ سے کفارہ کا عقیدہ صرف اپنی مجموعی صورت ہی میں Mystery یعنی معمہ نہیں بلکہ اس کا ہر جزو اپنی اپنی جگہ ایک علیحدہ معمہ ہے۔یہ دعویٰ کہ چونکہ انسان گناہ گار ہے اور خدا عادل ہے اس لئے ضروری ہے کہ کوئی معصوم قربانی کر کے انسان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے اس مقام پر آکر نامعقولیت کی تیسری منزل میں داخل ہو جاتا ہے۔سب سے پہلے تو یہ امر قابل توجہ ہے کہ کفارہ کا مقصود کیا تھا؟ اگر تو مقصود یہ تھا کہ انسان کو گناہ کے میلان یا اس کے نتائج سے بچایا جائے تو یہ مقصد تو انسانوں کے ہاتھوں خدا کے بیٹے کو صلیب دلوانے سے پورا نہیں ہوسکتا بلکہ بنی آدم کے گناہوں میں اضافہ کا موجب بن جاتا ہے۔نعوذ باللہ خدا کے بیٹے کو صلیب پر چڑھا کر جو کہ کلیۂ معصوم تھا انسانیت تو ایک ایسے مکروہ گناہ میں ملوث ہو جاتی ہے کہ جس کے دھلنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔اگر عام انسانوں کا قتل بھی ایک قاتل کے دل کو سراسر داغدار کر سکتا ہے، اگر آدم کی ایک لغزش تمام انسانیت کے چہرے پر ہمیشہ کے لئے کلنک کے ٹیکے لگا جاتی ہے تو خدا کے معصوم بیٹے کے قتل سے کیوں انسانیت ایک نا قابل معافی ابدی لعنت کا شکار نہیں ہو جانی چاہئے۔کفارہ کے لئے معصوم کی تلاش کی اصل ضرورت جو عیسائیوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان سارے کے سارے اتنے گناہ گار ہیں کہ ان میں سے ہر ایک زیادہ سے زیادہ صرف اپنے گناہ کی سزا برداشت کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور مزید گناہ کے بوجھ اس پر لا دے