خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 50

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 50 50 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء میں اس دعویٰ کے یہ معنی نہیں گے کہ چونکہ خدا تعالیٰ ظالم نہیں ہے اس لئے معاف نہیں کر سکتا۔یہ بالکل اسی قسم کا دعوی ہے جیسے کوئی کہے کہ چونکہ فلاں شخص جھوٹ نہیں بولتا اس لئے کذاب ہے۔چونکہ فلاں شخص کی نظر تیز ہے اس لئے اندھا ہے، چونکہ فلاں شخص کالا ہے اس لئے گورا ہے اور چونکہ فلاں شخص گورا ہے اس لئے وہ کالا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اسی ٹھوکر سے، اسی لغویت سے بچانے کے لئے اور عدل کے صحیح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے لئے قرآن کریم میں کہیں ایک جگہ بھی خدا تعالیٰ کو عادل بیان نہیں کیا گیا البتہ اس کی ذات پر سے ظلم کی بار بارفی کی گئی ہے۔جیسا کہ فرمایا اَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ( آل عمران : ۳۸۱) کہ خدا تعالیٰ ہرگز اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔دوسری ٹھو کر عیسائیت نے یہ کھائی ہے بلا تحقیق گناہ کو ایک ایسے داغ کے طور پر تصور کر لیا ہے جو نہایت ہی پکی سیاہی کا داغ ہے اور سزا کے پانی کے سوامٹ ہی نہیں سکتا حالانکہ حق یہ تھا کہ گناہ کی نیت اور اس کے محرکات کا باریک تجزیہ کر کے دیکھا جاتا کہ کیا گناہ کسی پکی سیاہی سے مشابہ بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ دھل سکتا ہے تو اسے دھونے کے لئے کس قسم کے پانی کی ضرورت ہے؟ انسانی فطرت سے متعلق روز مرہ کا مشاہدہ ہمیں بتاتا ہے کہ گناہ گار دل جب تو بہ اور استغفار کے پانی سے دھلتے ہیں تو وہ ایسے پاک اور صاف ہو جاتے ہیں کہ ان میں گندگی کی کوئی بھی ملونی باقی نہیں رہتی۔ایک بچہ جب باپ کی نافرمانی کر کے مورد سز ا ٹھہرتا ہے تو بسا اوقات سزا سے قبل ہی اس کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت عین ممکن ہے کہ اگر بخشش سے کام نہ لیا جائے اور انصاف کی چھری اندھا دھند چلائی جائے تو اس کی توبہ بغاوت میں تبدیل ہو جائے۔اس لئے کوئی باپ سوائے اس کے کہ اس کے سینہ میں پتھر کا دل ہو اور کھوپڑی میں گدھے کے عقل ہو ایسے موقع پر انصاف کی چھری کو اندھا دھند نہیں چلا سکتا بلکہ عین ممکن ہے کہ اسے سزا دینے کی بجائے اس کی ندامت کے آنسوؤں کو قبول کرتے ہوئے اسے چھاتی سے لگالے اور پہلے سے بھی بڑھ کر اسے پیار کرنے لگے۔مگر ا یک طرفہ تماشا ہے کہ عیسائی عدل کی رو سے خدا تعالیٰ صرف ظالم ہی نہیں بلکہ نادان اور بے سمجھ بھی ٹھہرتا ہے جسے نہ تو سزا کی حکمتوں کا کوئی علم ہے اور نہ گناہ کی ماہیت سے کوئی واقفیت کیونکہ وہ ظالم نہیں ہے اس لئے بخش نہیں سکتا کیونکہ وہ عادل ہے اس لئے ضرور ہے کہ ایک گناہ کی سزا