خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 438
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 438 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء در گور کر دیا کرتے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک قطرہ تک نہ گرتا تھا۔ابوجندل کی اس نادانی پر کوئی شکوہ نہیں کیونکہ وہ اس وقت اپنے ہوش وحواس میں نہ تھے۔ہاں وہ ابو جندل اپنے ہوش و حواس میں نہ تھے جو ہاتھوں میں زنجیریں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنے ہوئے گرتے پڑتے واپس مکہ کی طرف جارہے تھے۔پس معاہدہ کی یہ شرط کہ قریش میں سے جو بھی مسلمان ہو کر محمد مصطفی ﷺ کی پناہ میں آنا چاہے گا اسے واپس لوٹا دیا جائے گا صحابہ کے دل پر سب سے زیادہ شاق گزری اور اسے حد سے زیادہ کمزوری اور ذلت کا نشان سمجھا گیا لیکن بہت جلد آنے والے دنوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ شرط صحابہ کی کمزوری اور ذلت کا نہیں بلکہ قریش مکہ کی کمزوری اور ذلت کا نشان بنے والی تھی۔صلح حدیبیہ کو زیادہ دیر نہ گزری کہ مکہ کے ایسے مظلوم مسلمان جنہیں مدینہ میں پناہ نہ مل سکتی تھی ابو بصیر کی سرکردگی میں جمع ہونے لگے۔ابوجندل بھی انہی نوجوانوں میں سے ایک تھا جس کیلئے محمد مصطفی کی دعا سے خدا تعالیٰ نے یہ سبیل نکالی تھی۔یہ مقام اس شاہراہ عرب پر واقع ہے جو مکہ سے گزر کر شام کی طرف جاتی ہے اور دونوں کے درمیان تجارتی گزرگاہ ہے۔پس وہ نوجوان جو اسلام قبول کر لیتے وہ بھاگ کر اس مقام پر جمع ہو جاتے اور قریش سے ان کے مظالم کا بدلہ اس طرح لیتے کہ جب موقع پاتے ان کے تجارتی قافلوں کولوٹ لیتے۔نو مسلم مہاجرین کا یہ گروہ قریش مکہ کیلئے ایک مصیبت بن گیا کہ ان کے دل کا چین اٹھ گیا اور راستے کا امن برباد ہو گیا۔مسلمانوں کیلئے تو حدیبیہ کی صلح حقیقہ امن کا پیغام لائی لیکن قریش مکہ کیلئے بدامنی اور بے چینی کا ایک در کھول دیا جو دن بدن اور کشادہ ہوتا جارہا تھا۔پس وہی شرط جسے صحابہ اپنی ذلت کا نشان سمجھے بیٹھے تھے دیکھتے دیکھتے کفار کی ذلت کا نشان بن گئی اور حد درجہ ذلیل ہو کر اور گر کر خود انہی کو آنحضور سے یہ درخواست کرنی پڑی کہ خدا کیلئے معاہدہ کی اس شرط کو منسوخ سمجھیں اور اپنے نومسلموں کو اپنے پاس بلا لیں۔پس اس پہلو سے بھی صلح حدیبیہ آنحضور کیلئے محض ایک صلح نہیں بلکہ فتح مبین ثابت ہوئی۔السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه: ۱۰۲ - ۱۰۵) آخری بات واقعات حدیبیہ کا بغور جائزہ لیں تو آخری بات یہی نظر کر سامنے آتی ہے کہ اگر چہ حدیبیہ کی