خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 433

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 433 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء خاطر ترک رضائے خویش کی فتح تھی اور یہ فتح حصول مقصد کی فتح تھی اور فتح مکہ بھی اس میں شامل اور اس کے ذیل میں آتی ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا روشن فتح ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے مقاصد میں بتمام و کمال کامیاب ہو جائے۔حدیبیہ کے واقعات کا بغور مطالعہ کریں تو لازماً انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس موقع پر آپ کے سارے مقاصد بدرجہ کمال پورے ہو گئے۔آپ دشمن کی خونریزی سے بچنا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کو معجزانہ طور پر پورا فرمایا اور دشمن کے ہاتھ روک دیئے۔متعدد بار ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جنگ کے شعلے بھڑک اٹھنے کو تیار تھے مگر اللہ کی رحمت نے ہر بار اس کو ٹھنڈا کر دیا۔آپ صحابہ کو لڑائی سے باز رکھنا چاہتے تھے اور اس مقصد میں بھی خدا تعالیٰ نے آپ کو کامیابی عطا فرمائی۔بارہا قریش کی طرف سے ایسی اشتعال انگیزی کی گئی کہ صحابہ کٹ مرنے پر تیار ہو گئے اور ایسا جوش اور ولولہ دکھایا کہ دنیا کے کسی دوسرے رہنما کیلئے اسے قابو میں رکھنا ممکن نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد مصطف مال کو ان کے مشتعل جذبات پر کامل غلبہ عطا کیا اور آنحضور کے منشاء کے خلاف انہیں انگلی تک ہلانے کی توفیق نہ ملی۔آنحضور قریش مکہ سے صلح اور امن کے خواہاں تھے تا کہ جنوب کی طرف سے مطمئن ہو کر شمال میں اٹھنے والے خطرات کے ساتھ یکسوئی سے نپٹ سکیں اور تا قریش امن کے ماحول میں ٹھنڈے دل کے ساتھ اسلام کے پیغام پر غور کر سکیں۔پس آپ کو اس مقصد میں بھی مکمل کامیابی ہوئی اور خود قریش ہی صلح کی پیشکش پر آمادہ ہو گئے۔آپ کو یقین تھا کہ آپ کا رویا ظاہری رنگ میں پورا ہوگا خواہ جلد ہو یا بدیر چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ ہی کے ہاتھوں یہ پیشکش بھی کروادی کہ آئندہ سال آپ بے شک آئیں اور تین دن قیام کر کے مناسک عمرہ ادا کریں ہماری طرف سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے گا اور کوئی امن شکنی نہ ہوگی۔پس اسی معاہدہ نامہ صلح میں رویا کے ظاہری شکل میں پورا ہونے کے آثار بھی رکھ دیئے۔معاہدہ صلح میں چند ایسی دل آزار باتیں جو قریش کے تفاخر کا باعث اور صحابہ کی عزت نفس کو کچلنے کا موجب بنی ہوئی تھیں جب جذبات کی ہنگامہ آرائی کے بعد نسبتا پر سکون ماحول میں صحابہؓ نے ان کو دیکھا تو اپنی جلد بازی پر نادم اور پشیمان ہوئے اور جان لیا کہ ہر معاملہ میں آنحضور کا ہی فیصلہ درست اور مناسب اور برمحل تھا۔مثلاً آپ کا بلاتر دو سہیل بن عمرو کی یہ بات تسلیم فرمالینا کہ