خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 431
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 431 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء اور فکر سر گرداں ہے۔دل پریشان ہو جاتا ہے اس نظارے سے۔تاریخ اسلام کے یہ چندلحات تو قف ایک عقدہ لا نخل کی طرح سوچ و بچار کی قوتوں کو مفلوج کئے دیتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محمد مصطفی ﷺ کے وقت کے سوا اس میدان میں ہر دوسرا وقت ٹھہر گیا تھا اور آنحضور کے دل کی دھڑکن کے سوا ہر دوسرے دل کی دھڑکن رک چکی تھی۔علي مؤرخین اور اصحاب سیر نے آنحضور ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں صحابہ کے توقف اور تامل کے جواز میں بہت کچھ لکھا ہے۔محدثین نے بھی تو جیہات پیش کی ہیں لیکن بات دراصل یہی ہے کہ وہ منزل ہی بہت کڑی تھی اور وہ امتحان ان کی حد استعداد سے باہر تھا۔یہ وہ کٹھن مہم تھی جومحمد مصطفیٰ کے سوا اور کوئی سر کرنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔یہ وہ حد فاصل تھی جو محمدمصطفیﷺ کو ہر دوسری مخلوق سے جدا کرتی تھی۔آپ نے قدم اٹھایا تو قدم اٹھے۔آپ آگے بڑھے تو آگے بڑھنے کے حوصلے پیدا ہوئے۔صالحین اور شہداء اور صدیقوں کا ہی کیا ذ کر اگر وہ محفل نبیوں سے بھی بھی ہوتی تو بخد امحمد مصطفیٰ" ان سب میں منفرد اور ممتاز اور ارفع اور بالا تر رہتے اور اطاعت خداوندی کے اس امتحان میں آپ کا تخت سب سے اونچا بچھایا جاتا۔جہاد فی سبیل اللہ کا یہ ایک خاص اور منفرد مقام تھا۔دیکھو راہ قتال میں بھی احد کے وہ چند دردناک لمحات آئے تھے جب قرآن کریم کے بیان کے مطابق دشمن کی یلغار نے مسلمانوں کے پاؤں اکھاڑ دیئے تھے اور وہ اس حال میں دوڑے چلے جاتے تھے کہ پیچھے رسول خدا تنہا میدان جہاد میں کھڑے انہیں اپنی طرف بلا رہے تھے۔پھر یہ اسوہ نبی ہی تو تھا جس نے دوڑتے ہوؤں کو روکا اور گرتوں کو تھام لیا۔حدیبیہ کا واقعہ راہ سلوک میں ایسا ہی ایک وقت تھا۔پس تعجب کا کیا مقام اور وجہ جواز کی کیا ضرورت ہے؟ ایک دفعہ نہیں بارہا آپ کی زندگی میں ایسے تاریخ ساز لمحات آئے کہ تنہا آپ نے کھوئی ہوئی بازیوں کو جیتا اور دشمن کی جیتی ہوئی بساط کو اس پر الٹ دیا۔بار ہا آپ نے مہیب خطرات کے رخ پلٹے اور تنگ اور تاریک راہوں کو کشادہ اور روشن کیا اور خود آگے قدم بڑھایا تب آپ کے غلاموں کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ آپ کے نقوش پا کو چومتے ہوئے آگے بڑھیں۔پس یہ تھا ہمارا آقا محمد مصطفیٰ " منفرد اور تنہا، ممتاز اور اکیلا میدان وغا کی ہر بازی جیتنے والا وہ