خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 40

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 40 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء لیکن یہ کفارہ ہر کس و ناکس کے لئے نہیں ہوا بلکہ صرف انہیں لوگوں کے لئے جو مسیح کی اس عظیم قربانی پر ایمان لائیں اور اس کے طفیل ندامت اور توبہ کے آنسوؤں سے اپنے گناہوں کو دھو ڈالیں۔پس جب اس آخری شرط کے ساتھ حقیقت کفارہ پر نظر ڈالی جائے تو اس کا ماحصل مختصر الفاظ میں یہ بنے گا کہ مسیح کے کفارہ کے نتیجہ میں گناہ کے وہ پختہ داغ جو پہلے تو بہ کے آنسوؤں سے بھی نہیں دھل سکتے تھے ایک کچی سیاہی میں تبدیل ہو گئے اور اب ان کے دھل جانے کا امکان پیدا ہو گیا۔ہر انسان کے گناہ گار ہونے کا نظریہ چونکہ نظریہ کفارہ کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ ہر انسان لازما گناہ گار ہے اور گناہ کے چنگل سے کسی طرح بھی بچ نہیں سکتا اس لئے سب سے پہلے ہم اسی کی چھان بین کرتے ہیں۔یہ خیال اگر چہ یہود میں بھی پایا جاتا تھا مگر عیسائیوں میں سب سے پہلے سینٹ پال ( Saint Paul) نے اسے ایک مخصوص رنگ میں اپنایا اور اسی پر نظریہ کفارہ کی بنیاد رکھی۔اس نے اسے اس رنگ میں پیش کیا کہ اول : آدم نے گناہ کیا۔دوئم یہ گناہ اس کی نسل میں بھی وراثتا منتقل ہونے لگا اور اس کے نتیجے میں گناہ کی ایک دبی دبی تمنا انسانی فطرت میں سرایت کر گئی۔یہ تمنا ایک تیل کی طرح ہے جسے قانون شریعت کا علم آگ دکھاتا ہے اور جو نہی یہ علم حاصل ہوتا ہے اس کے خلاف بغاوت کا جذبہ معاً آگ کی طرح بھڑک اٹھتا ہے۔سوئم : انسانی موت اسی گناہ کی سزا ہے۔چہارم : انسانوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے اور موت کے چنگل سے رہائی دلانے کی خاطر نعوذ باللہ خدا کے بیٹے نے خود اپنے اوپر موت قبول کرلی اور اس طرح آدم" کے اس گناہ کا کفارہ ہو گیا لیکن چونکہ اس کفارہ کا فیض صرف ان بنی آدم کو پہنچ سکتا ہے جو صیح اور حقیقت کفارہ پر ایمان لائیں اس لئے فطری گناہ سے نجات پانے کے لئے پانچویں شق یہ ہے کہ واحد حل بپتسمہ میں مضمر ہے۔یہ نظریہ کفارہ کی عمارت کے لئے بنیاد کے طور پر ہے۔ایک لحاظ سے تو معقول ترین نظریہ ہے کیونکہ جس مقصد کی خاطر یہ نظریہ گھڑا گیا ہے اسے یہ بدرجہ کمال پورا کرتا ہے۔لیکن ایک پہلو سے یہ نا معقول ترین نظریہ بھی ہے کیونکہ جب عقل کی کسوٹی پر اسے پرکھ کر دیکھتے ہیں تو معمولی عقل کے معیار پر بھی اس کا کوئی جز و پورا نہیں اترتا۔