خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 421

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 421 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء کو اس اصول پر قربان کر دیا کہ سفیر کی حرمت کو بہر حال قائم کیا جائے گا خواہ اس راہ میں کیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔حضرت عثمان کے قتل کی خبر سے پہلے آپ کا جو رویہ تھا اس رویہ میں اور اس رویہ میں جو قتل کی خبر کے بعد ظاہر ہوا یوں لگتا ہے جیسے مشرق و مغرب کا بعد ہے اور زمین و آسمان کا فرق پڑ چکا ہے۔ذرا غور فرمائیے کہ اس خبر سے پہلے آپ کو جنگ پر آمادہ کرنے کیلئے کیسے کیسے بیرونی اور اندرونی دباؤ کا سامنا تھا جس کی آپ نے قطعا پرواہ نہ کی۔بیرونی دباؤ تو دشمن کی مسلسل اشتعال انگیزی کی صورت میں تھا لیکن اس سے بڑھ کر آپ کے قلب صافی پر اثر انداز ہونے والا وہ اندرونی دباؤ تھا جو صحابہ کے جوش جہاد کی صورت میں بڑے زور کے ساتھ طغیانی دکھا رہا تھا تن تنہا آپ ان دونوں محاذوں پر بے مثل پامردی کے ساتھ جمے رہے اور آپ کے مستحکم ارادہ نے ایک انچ زمین بھی نہ چھوڑی اور ہر اس دباؤ کو ر دفرما دیا جو جنگ کی طرف دھکیلنے والا تھا۔پھر دیکھو کہ اچانک یہ کیا انقلاب آیا اور یک بیک رُت کیسی بدلی کہ جو نہی سفیر کے قتل کی خبر پہنچتی ہے امن کا رسول اور محبت کا سفیر ہر دوسرے شخص سے زیادہ جنگ پر آمادہ اور مستعد ہو جاتا ہے۔آپ کا یہ انقلابی فیصلہ بلا شبہ اس حقیقت کا غماز تھا کہ آنحضور کے نزدیک عہدہ سفارت کو غیر معمولی حرمت حاصل ہے اور سفیر کے قتل کو آپ ایک انتہائی بھیا نک انسانیت سوز جرم تصور فرماتے تھے۔پس دشمنوں کا ہر دوسرا ذلت آمیز اور غیر شریفانہ حربہ جو کام نہ کر سکا آپ کے سفیر کے قتل کی خبر نے وہ کر دکھایا۔بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ کے لئے اور برسر پیکار قوموں کی رہنمائی کیلئے قیامت تک اس میں ایک سبق ہے مگر غیر قوموں سے ہمیں کیا شکوہ کاش مسلمان کہلانے والے ہی اپنے محبوب آقا کی اس محبوب سنت کو حرز جان بنائے رکھتے۔کے اس اسوہ پر غور کرتے ہوئے میرا ذہن اس طرف بھی منتقل ہو گیا کہ آپ کا اپنے سفیر کی حرمت کا اس قدر پاس کرنا در اصل صفات باری تعالیٰ کا ہی ایک عکس تھا۔آپ بہمہ ذات وصفات خدا کے رنگ میں رنگین تھے۔آپ کی اپنی کوئی الگ ادا نہ تھی بلکہ اپنے مولیٰ ہی کے ڈھنگ سیکھے تھے۔حدیبیہ کے مقام پر یہ سب الہی رنگ آپ ﷺ کی ذات میں ایک عجیب شان دلر بائی کے ساتھ کبھی جمال بن کر ظاہر ہوئے کبھی جلال بن کر چمکے۔