خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 420
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 420 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَنْ نَّكَتَ فَإِنَّمَا يَنْكُتُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْ فِى بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيْهِ أَجْرًا عَظِيمًا (الفتح: 1) یقیناً یہ لوگ جو تیری بیعت کر رہے ہیں دراصل خدا کی بیعت کر رہے ہیں۔اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔پس جو کوئی اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہی مفاد کے خلاف ایسا کرے گا اور جو اس عہد کو ایفا کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے گا۔اس عظیم روحانی فائدہ کے علاوہ بعض ضمنی فوائد بھی اس بیعت کے حاصل ہوئے۔مثلاً یہ کہ صحابہ کو اپنے سینوں کے دبے ہوئے غم و غصہ کو کسی حد تک نکالنے کا موقع مل گیا اور یہ موقع بھی مل گیا کہ صلى الله من حیث الجماعت عروہ بن مسعود کے اس ناپاک الزام کا منہ توڑ دیں کہ نعوذ باللہ صحابہ آنحضور کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔سفیر کی حرمت کا سبق بیعت رضوان کے واقعہ میں سفیر کی حرمت کا جو عظیم الشان سبق ہمیں ملتا ہے اسے عموماً مؤرخین نے نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ بین الاقوامی تعلقات میں آنحضور ﷺ کے اسوہ کا یہ پہلو ایک ایسی درخشندہ مثال ہے جو قیامت تک قوموں کے لئے نور اور ہدایت کا موجب بنی رہے گی۔اپنے سفیر کے قتل کی خبر پر آنحضور ﷺ کا جنگ پر آمادہ ہو جانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔آپ کے دل و دماغ پر تو اس وقت حج بیت اللہ کا عشق اس حد تک مستولی تھا کہ کسی قیمت پر بھی جنگ و جدال میں الجھ کر حج بیت اللہ سے محروم نہیں رہنا چاہتے تھے۔اس اعلیٰ مقصد کے لئے آپ نے بڑی سے بڑی قربانی دی۔ہر دباؤ کو برداشت کیا لیکن آپ کے اس فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی کہ جنگ نہیں ہوگی ، نہیں ہوگی نہیں ہوگی۔پہلے کبھی آپ پر جنگ کے لئے ایسا دباؤ نہیں پڑا تھا جیسا اس وقت پڑا اور کبھی آپ نے جنگ سے اس شدت کے ساتھ احتراز نہیں فرمایا تھا جیسا اس وقت فرمارہے تھے۔ہاں جب سفیر کی حرمت کا سوال سامنے آیا تو آپ نے بلاتر درد اپنا فیصلہ تبدیل فرما دیا اور ہر دوسری مصلحت