خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 419

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 419 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء السيرة الحلبيه جلد ۳ نصف اول صفحه: ۷۳) بہر حال گفت و شنید جاری رہی لیکن کفار کسی حالت میں بھی آنحضو اور آپ کے قافلہ کو عمرہ اور حج کی اجازت دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔تا ہم حضرت عثمان کی سفارت کلیہ رائیگاں نہ گئی اور قریش اس حد تک نرم ضرور پڑ گئے کہ صلح پر آمادہ ہو جائیں۔بیعت رضوان معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کولمبی بحث و تمحیص میں اتنی دیر ہوگئی کہ وہیں رات پڑ گئی اور واپسی کا وقت نہ رہا پس اس روز آپ واپس نہ آسکے۔ایک تو ویسے ہی اس تاخیر سے تشویش لازمی تھی اوپر سے کسی نے یہ غلط خبر اڑا دی کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔مسلمان جو پہلے ہی زخم خوردہ اور کبیدہ خاطر تھے اس قدر اس خبر سے برافروختہ ہوئے کہ غم و غصہ سے بے قابو ہوئے جاتے تھے۔آنحضو کو اس خبر کی صداقت پر گو یقین تو نہ تھا مگر اس کے درست ہونے کے احتمال سے بھی آپ اتنا ملول خاطر ہوئے کہ دوران سفر کسی اور چیز نے آپ کو اتنا دکھ نہ پہنچایا تھا۔اس موقع پر آپ نے ایک تاریخی عہد پر صحابہ سے بیعت لی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لئے بغیر ہرگز وہاں سے واپس نہیں لوٹیں گے اور دشمن کو پیٹھ نہ دکھا ئیں گے خواہ ایک ایک مسلمان اسی میدان میں شہید ہو جائے۔(السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ : ۷۳ - ۷۵) پس تاریخ اسلام کے فلک پر کہکشاں کی طرح چمکنے والا وہ جنت کا راستہ جسے بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس موقع پر تعمیر ہوا۔ایک درخت کے نیچے ایسی حالت میں آنحو اللہ نے تمام صحابہ سے بیعت لی کہ ہر دل پھڑک رہا تھا اور ہر جان شوق شہادت میں سینے سے باہر ہوئی جاتی تھی۔در اصل حضرت عثمان کا پیچھے رہ جانا اور غلط خبر کا مشہور ہو جانا بھی ایک عظیم آسمانی تدبیر کی کڑیاں تھیں کوئی اتفاقی حادثات نہ تھے۔چنانچہ یہ دلخراش خبر صحابہ کے تو دونوں جہان سنوار گئی اور ایسی برکتیں ان کو نصیب ہوئیں کہ شاید ہی کوئی خوشخبری ان کے حق میں ایسا معجزہ دکھا سکتی۔اس واقعہ کا بیعت رضوان پر منتج ہونا ایک اتنا بڑا روحانی فائدہ ہے کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔بنی آدم کی تاریخ میں نہ کبھی پہلے ایسی بیعت لی گئی اور نہ آئندہ کبھی لی جانی تھی کہ جس کے بارہ میں عرش کا خدا یہ گواہی دے رہا ہو کہ