خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 418

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 418 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء نہ تھا کہ اس حالت طیش میں وہ سفیر کو بھی گزند پہنچا دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے احاجیش کو ان کی مدد کے لئے کھڑا کر دیا اور وہ کفار مکہ اور سفیر محمد مصطفیٰ " کے درمیان حائل ہو گئے۔آنحضور ﷺ کو اس بدخلقی اور جہالت سے بہت رنج پہنچا لیکن آپ کے خلق عظیم اور رحمت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ جب اس دوران کفار مکہ کے چالیس سردار پکڑے گئے جو بری نیت سے مسلمانوں کے کیمپ کے گرد چکر لگا رہے تھے تو آپ نے ان سے کوئی باز پرس نہ فرمائی اور معاف فرماتے ہوئے آزاد کر دیا حالانکہ وہ محض رہزن ہی تو تھے کوئی سفارتی حرمت انہیں حاصل نہ تھی۔السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۷۹) دوسرا سفیر P پہلے سفیر کی ناکام واپسی کے بعد آپ نے دوسرے سفیر کے طور پر عمر بن خطاب کا انتخاب فرمایا۔حضرت عمرؓ نے اس انتخاب سے یہ مسیح اندازہ لگایا کہ آنحضور کے ذہن میں سفیر کی حرمت و خیریت کی فکر غالب ہے اور مجھے اس لئے منتخب فرما ر ہے ہیں کہ میرے ہم قبیلہ بنو عدی میری حفاظت کے ضامن ہو جائیں گے۔پس حضرت عمرہؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ! ان دنوں مکہ میں بنو عدی موجود نہیں جو میری حفاظت کے ضامن ہوں۔پس میں یہ مشورہ عرض کرتا ہوں کہ موجودہ حالات میں عثمان سے بہتر اور کوئی سفارت کیلئے موزوں نہیں۔عمرؓ کا یہ مشورہ آنحضو کو پسند آیا اور آپ نے بلاتر در عثمان غنی کو سفیر بنا کر اہل مکہ کی طرف روانہ فرمایا۔دراصل ذاتی طور پر حضرت عثمان کے اہل مکہ پر اتنے احسانات تھے کہ اہل مکہ کی طرف سے کم سے کم خطرہ اگر کسی کو در پیش ہوسکتا تھا تو وہ حضرت عثمان ہی تھے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۷۱ ، ۷۲ ) چنانچہ یہی ہوا کہ مکہ میں داخل ہوتے ہوئے پہلا قریش سردار جو آپ کو ملا اس نے ذاتی طور پر آپ کو امان دے دی اور بلاخوف و خطر آپ نے سفارت کے فرائض سرانجام دیئے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۷۲ ) یہی نہیں بلکہ اہل مکہ نے تو اس حد تک آپ کی عزت افزائی کی کہ خود بھی یہ پیشکش کی کہ اگر تم خود بیت اللہ کا طواف کرنا چاہتے ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے لیکن محمد ﷺ کو ہم اجازت نہیں دے سکتے۔لیکن حضرت عثمان نے فرمایا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ اپنے آقا کے بغیر عثمان اکیلا ہی طواف کرے۔