خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 417

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 417 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء کرے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: اے) میں سمجھتا ہوں یہ تو ضیح درست نہیں ہے کیونکہ آنحضور کا نور بصیرت اس معاملہ میں کبھی دھوکہ نہیں کھا سکتا تھا۔آپ تو سفیروں کو گفت وشنید سے پہلے ایک نظر دیکھ کر ہی یہ بھانپ لیتے تھے کہ یہ کس مزاج کے لوگ ہیں اور کیسی بات کریں گے؟ یہ کیسے ممکن تھا کہ گفت وشنید کے بعد بھی یہ اندازہ نہ فرماسکتے کہ وہ آنحضور ﷺ کے بارہ میں کیا تاثر واپس لے کر جا رہے ہیں اور کفار مکہ سے جا کر کیا کہیں گے؟ دراصل آنحضوں نے اپنا سفیر ہر صورت بھیجنا ہی تھا کیونکہ دشمن کے حالات اور اس کے حقیقی مقاصد اپنانمائندہ بھجوائے بغیر معلوم نہیں ہو سکتے تھے۔سفیر بھجوانے میں تاخیر اور پہلے مسلسل قریش مکہ کو سفیر پر سفیر بھجوانے کا موقع دینا آپ کی گہری فراست پر دلالت کرتا ہے۔آپ جانتے تھے کہ قریش مکہ غیظ وغضب میں بپھرے ہوئے ہیں اور اس حد تک آپ کے عناد میں بڑھے ہوئے ہیں کہ سفارتی آداب کوملحوظ نہ رکھیں گے اور بعید نہیں کہ آپ کے سفیر کو ہلاک کر دیں۔پس آنحضوں کا آخر پر سفیر بھجوانے کا فیصلہ دراصل اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ نے اندازہ لگایا کہ قریش کے چاروں سفیروں نے واپس جا کر بار بار آپ کے اور آپ کے ہمسفر اہل قافلہ کے حق میں ایسی اچھی رائے کا اظہار کیا ہوگا کہ بہت حد تک قریش کا اشتعال ٹھنڈا پڑ چکا ہو گا اور دماغ کم از کم اس حد تک ٹھکانے آچکے ہوں گے کہ وہ آنحضور ﷺ کے سفیر کو قتل کرنے سے باز رہیں۔تاہم آپ نے مزید احتیاط کے طور پر ایک خزاعی صحابی کو سفیر بنایا کیونکہ قریش کا پہلا سفارتی وفد خزاعی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور عرب مزاج کوملحوظ رکھتے ہوئے یہ امید رکھنا بے محل نہ تھا کہ خزاعی قبیلہ کے لوگ اپنے ہم قبیلہ سے ہمدردی رکھیں گے جبکہ خودان سے بھی حسن سلوک کیا گیا تھا۔اسی طرح احا بیش کے سردار کے نہایت متاثر ہو کر لوٹنے سے بھی آپ باخبر تھے اور سمجھ چکے تھے کہ وہ مسلمانوں کا ہمدرد اور موید بن کر واپس لوٹا ہے۔اس پس منظر میں آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اب سفیر بھجوانے میں کسی بڑے ضرر کا احتمال نہیں۔پیش آمدہ حالات سے پتہ چلتا ہے کہ کسی قدر تاخیر کے ساتھ اپنا سفیر بھجوانے کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ اور برمحل تھا کیونکہ مزاج نسبتاً درست ہونے کے باوجود قریش کے عناد کا عالم اب بھی یہ تھا کہ انہوں نے آپ کے سفیر کو سخت بے عزت کیا اور مزید تذلیل اور اظہار جہالت کے طور پر آنحضور کی اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں جو آپ نے از راہ شفقت اپنے سفیر کو عنایت فرمائی تھی۔بعید