خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 39

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 39 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء قدوس سے ملنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا اور گناہوں کا پھل کیا ہے؟ بیشگی کی موت اور لعنت اور خدا سے دوری۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کو ایک عجیب مخمصہ در پیش آجاتا ہے۔فضل تو بضد ہوتا ہے کہ انسان اپنے گناہوں کی پاداش میں ہمیشگی کی لعنت سے بچایا جائے اور عدل کو یہ اصرار بہت ہے کہ گناہ گار کو گناہ کا پھل بھی بہر حال چکھنا ہوگا۔عیسائیت کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مشکل کا یہ حل تجویز کیا کہ خدا تعالیٰ اپنا کلام مختلف انبیاء پر نازل کرتا رہا اور اس زبانی پیغام کے ذریعہ بنی نوع انسان کو گناہ کے چنگل سے نجات دلانے کی کوشش میں مصروف رہا مگر کیونکہ گناہ انسانی فطرت کا ایک لازمی جزو بن چکا تھا اس لئے یہ لاتوں کا بھوت باتوں سے نہیں مانا اور کوئی سلام، کلام، لالچ یاد ھمکی گناہ کے آسیب کو انسانیت کا مسکن چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکے۔چنانچہ ایک زمانہ کے تلخ تجربہ کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کو مجسم کیا اور گوشت پوست سے ایک انسانی بیٹے کی صورت میں نعوذ باللہ حضرت مریم کے پیٹ میں اتارا جہاں سے وہ انسانی صورت لے کر دنیا میں نمودار ہوا۔وہ کامل طور پر معصوم تھا، وہ کامل خدا بھی تھا، وہ کامل انسان بھی تھا۔وہ جب تک زندہ رہا اپنی قوت قدسیہ اور پاک کلام کے ذریعہ انسان کی اصلاح کی کوشش کرتا رہا لیکن خدا تعالیٰ کا عدل شیکسپیئر کے شائی لاک (Shy Lock) کی طرح پھر بھی انتقام انتقام ہی پکارتا رہا۔چنا نچہ اس مسلسل تقاضے سے مجبور ہو کر خدا تعالیٰ کو وہ تلخ گھونٹ بھرنا پڑا جس کے بغیر دراصل چارا نہ تھا اور اس نیک دل روایتی بزرگ کی طرح جس نے ایک ہراساں فاختہ کو ایک بھوکے باز سے بچانے کے لئے اپنی ران کا گوشت کاٹ کر اس باز کے منہ میں ڈال دیا تھا ، خدا تعالیٰ نے بھی نعوذ باللہ اپنے بیٹے کا خون پلا کر اس ظالم عدل کی پیاس بجھائی۔پس یوں ہوا کہ مسیح ہمارے گناہوں کا کفارہ بن کر صلیب کی اذیت ناک موت مارا گیا اور نعوذ باللہ تین دن کی لعنتی اور جہنمی موت قبول کر کے انسانوں کو اس قابل بنا گیا کہ وہ مسیح کے خون سے اپنے گناہ دھوسکیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ ” انہوں نے اپنے گناہ آلود لبادوں کو مینڈھے کے خون سے دھو کر سفید کرلیا