خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 38
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 38 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء قیدیوں کی نظریں اس امید سے اس طرف اٹھیں کہ شاید کوئی قوی ہیکل انسان انہیں شیطان لعین کے چنگل سے رہائی دلانے کے لئے آیا ہے۔لیکن ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہے جب اس کی بجائے ایک کمزور ، نحیف ، لاغر شخص ان کی طرف آتا دکھائی دے۔وہ آتے ہی اس جابر شیطان سے یوں مخاطب ہو کہ اگر چہ میں رب العالمین ہوں ( نعوذ باللہ من ذلک ) اور قادر مطلق بھی ہوں مگر میں زبر دستی ان لوگوں کو تم سے چھڑا کر فاؤل (Foul) نہیں کھیلنا چاہتا۔جب تم نے جائز طور پر انہیں پچھاڑ گرایا ہے تو پھر میرا ز بر دستی ان کو آزاد کرانا انصاف اور کھیل کے اصولوں کے منافی ہے اس لئے میں یہ پیشکش کرتا ہوں کہ ہمیشہ کے لئے ان سب کو باندھ کر پیٹنے کی بجائے تین دن کے لئے نعوذ باللہ مجھے باندھ کر پیٹ لو اور ان سب کو آزاد کر دو۔اس پر اگر وہ احمق شیطان ان سب کو آزاد کر دے اور ان کے بدلہ میں اس منجی کو تین دن کے لئے باندھ لے تو یہ بعینہ کفارہ کی کہانی بن جائے گی۔لیکن صرف اس کہانی کو پیش نظر رکھ کر حقیقت کفارہ پر غور نہیں ہو سکتا اور اس امر کی چھان بین کے لئے کہ کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے یا نہیں؟ ضروری ہے کہ ہم اس بارے میں مختلف عیسائی نظریات کا تجزیہ کر کے کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔عیسائیت انسانی صلاحیتوں کے بارے میں ایک نہایت ہی تاریک اور مایوس منظر پیش کرتی ہے جس کے مطابق انسان جو کہ طبعا گناہ گار واقعہ ہوا ہے اگر چاہے بھی تو خدا تعالیٰ سے کبھی وصال حاصل نہیں کرسکتا۔انسانی پیدائش انسان کے لئے ایک ابدی ہلاکت اور لعنت کا پیغام لے کر آتی ہے۔اس کامل تاریکی اور مایوسی کا تصور جمانے کے بعد عیسائیت اس جد وجہد میں مصروف ہو جاتی ہے کہ کسی طرح آسمانی نور کی کوئی کھڑ کی ایسی کھول دی جائے جس راہ سے نورانی شعاعیں داخل ہو کر تار یک انسانی مستقبل کو سراپا نور میں تبدیل کر دیں۔لیکن اگر چہ عیسائیت کے نزدیک خدا تعالیٰ فضل بھی ہے، رحم بھی اور محبت بھی مگر اس تلخ حقیقت سے تو انکار نہیں ہوسکتا کہ ان کے علاوہ اس کی ایک صفت عدل بھی ہے۔جب کبھی بھی ڈوبتی ہوئی انسانیت کو اس ہلاکت سے بچانے کی خاطر اس کے فضل اور رحم کا ہاتھ انسان کی طرف بڑھتا ہے کہ اس کی مدد کا طالب ہاتھ تھام کر اسے ہلاکت کے گڑھے سے نکال لے اس کا عدل اپنے دونوں متوازن بازو پھیلا کر ان کی راہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ نہیں آگے مت بڑھو کیونکہ جب تک نا پاک انسان اپنے گناہوں کو پھل نہ چکھ لے اسے خدائے