خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 412

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 412 ورد کرتے ہوئے ایک بار پھر بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔پہلا دھکا غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء پہلا شدید دھکا ان کی امیدوں کو اس وقت لگا جب مکہ سے دو منزل کے فاصلے پر عسفان کے مقام پر ان کو معلوم ہوا کہ قریش مکہ ہر قیمت پر انہیں حج اور عمرہ سے روکنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اس غرض سے خالد بن ولید اور عکرمہ کی قیادت میں ایک دستہ مسلمانوں کے پڑاؤ کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے جس میں دو سوفن حرب میں طاق گھوڑ سوار نوجوان بھی شامل ہیں۔وہ ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس یہ عزم کر کے گھروں سے نکلے ہیں کہ خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے لیکن مسلمانوں کو مکہ کی سمت آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔یہ خبر جہاں مسلمانوں کی غیرت ایمانی کے لئے ایک تازیانہ کا کام کر گئی اور وہ جان پر کھیل کر بھی اپنے مقصد کو حاصل کرنے پر آمادہ ہو گئے وہاں اس خبر نے آنحضور ﷺ کے قلب صافی پر ایک بالکل مختلف اثر دکھایا۔آپ نے پیش آمدہ حالات کا بڑی طمانیت کے ساتھ جائزہ لے کر ایک فیصلہ کیا جو صحابہ کے فیصلہ سے بالکل مختلف تھا اور اہل قافلہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی ہے جو مجھے ایسے راستہ سے مکہ پہنچا دے جو کشت و خون کی راہ سے نہ گزرے اور حریف سے لڑے بغیر ہم منزل مقصود تک پہنچ سکیں؟ حاضرین مجلس میں سے ایک نے حامی بھری اور اپنے کمال فن کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ ساحلی راستہ سے مغرب کی طرف گریز کرتے ہوئے صحرائی ٹیلوں اور گھاٹیوں کے بیچ سے راہ بتا تا ہوا مسلمانوں کے قافلہ کو مد مقابل کی آنکھ سے صاف بچا کر لے گیا اور جب تک یہ قافلہ مکہ کے جنوب میں حدیبیہ کی وادی تک نہ پہنچ گیا خالد بن ولید اور عکرمہ کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۵۴-۵۸) قدوسیوں کے اس قافلہ کو پڑاؤ کی تیاریوں میں مصروف چھوڑتے الله ہوئے ہم ذرا ایک لمحہ توقف کر کے اطمینان سے آنحوی کے اس فیصلہ پر غور کرتے ہیں کہ کیوں آپ نے صحابہ کے جوش و خروش کو نظر انداز کرتے ہوئے حملہ آور دشمن سے مقابلہ کرنے کی بجائے انحراف کا طریق اختیار فرمایا۔بات یہ تھی کہ آنحضور جو فلسفہ شریعت کے راز دان تھے خوب جانتے تھے کہ حج بیت اللہ اور جنگ و جدال دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔پس چونکہ یہ سفر قتال کی