خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 410
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت الله 410 غزوات النبویہ میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء خدا تعالیٰ نے اسی نام سے موسوم فرمایا ہے۔چنانچہ سورہ فتح کی آیات میں جن کی میں نے تلاوت کی ہے حدیبیہ کی وادی میں ہونے والے اس عظیم الشان واقعہ کو فتح مبین کا نام دیا گیا۔آج کی تقریر بھی جو غزوات نبوی اور آنحضرت کے خلق عظیم کے عنوان کے تحت کی جارہی ہے سلسلہ وار مضمون کی ایک کڑی ہے جو گزشتہ چار سال سے جاری ہے۔آج میں فتح حدیبیہ کے تاریخ ساز لمحات کے دوران آنحضور ﷺ کے خلق عظیم اور بے مثل قائدانہ صلاحیتوں سے متعلق کچھ گفتگو کروں گا۔فتح مکہ تاریخ اسلام میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ہر قاری یقینا اس امر سے اتفاق کرے گا کہ فتح مکہ دراصل فتح حدیبیہ ہی کا ایک ذیلی عنوان ہے اور اسی کے طبعی نتیجہ کے طور پر رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے کیونکہ دراصل حدیبیہ کے میدان ہی میں فتح ملکہ کی قطعی داغ بیل رکھ دی گئی تھی۔ہر چند کہ مضمون کا تعلق تاریخی نقطہ نگاہ سے اس غزوہ کی تفاصیل بیان کرنا نہیں بلکہ محض اس دوران ظاہر ہونے والے خلق محمدی کے دل نواز جلووں پر گفتگو کرنا ہے مگر بات کو سمجھانے کیلئے ضروری ہے کہ کسی حد تک وہ پس منظر بھی پیش کیا جائے جس کے جلو میں نور مصطفوی ایک منفردشان کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔پس منظر یہ سن چھ ہجری کا واقعہ ہے غزوہ احد کو تین سال گزر چکے تھے۔عرب کی فضا بظاہر خاموش اور پر سکون تھی لیکن اسلام کے خلاف فتنے اندر ہی اندر پنپ رہے تھے اور کسی بھی وقت شمال اور جنوب کی سمتوں سے سراٹھانے کو تیار تھے۔شمال کی جانب سے سب سے بڑا خطرہ خیبر اور اس کے ماحول میں بسنے والے یہود کی طرف سے تھا جو مشرکین عرب کے ساتھ اپنی ساز باز میں ناکامی کے بعد اب قسطنطنیہ کی عظیم عیسائی سلطنت کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہے تھے اور اندر ہی اندر سازش کی ایک ہولناک کھچڑی پک رہی تھی۔پس کسی بھی وقت سلطنت روما کی عظیم طاقت کی پشت پناہی کے ساتھ قبائل یہود مدینہ کے شمال کی جانب سے مسلمانوں کے لئے ایک مہیب خطرہ بن سکتے تھے۔جنوب کی طرف سے آنے والا خطرہ قریش مکہ کی سر پرستی میں پرورش پا رہا تھا جو بعض جنگجو مشرک قبائل عرب میں ایک دفعہ پھر اپنا رسوخ بڑھا کر ان کو اسلام کے خلاف ایک فیصلہ کن جارحانہ