خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 406

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 406 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ الله ان انتہائی نازک ایام میں آنحضوں کا تمام تر انحصار دعاؤں پر تھا اور یہی وہ ہتھیار تھا جو بالآخر کارگر ثابت ہوا اور سب دوسرے ہتھیاروں پر بازی لے گیا۔ان دنوں آپ کی جو دعائیں منقول ہیں ان میں ایک بڑی پُر درد دعائی تھی : يَا صَرِيخَ الْمَكْرُوبِيْنَ يَا مُجِيبَ الْمُضْطَرِيْنَ اِكْشِفُ هَمِّي وَغَمِّى وَكَرْبِي فَإِنَّكَ تَرَى مَانَزَلَ بِي وَبِأَصْحَا بِي۔( السيرة الحلبيه مترجم جلد ۲ نصف آخر صفحه: ۳۸۱ - ۳۸۲) ترجمہ: اے دیکھیوں کی دعا سننے والے، اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے، میری گھبراہٹ کو دور کر کیونکہ تو ان مصائب کو جانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو در پیش ہیں۔( بخاری کتاب المغازی۔باب الخندق) ایک دوسری دعا: اللَّهُم مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمْ وَ انْصُرْنَا عَلَيْهِمْ وَزَلْزِلْهُمْ۔السيرة الحلبیہ مترجم جلد ۲ نصف آخر صفحه: ۳۸۱) ترجمہ: اے اللہ ! جس نے مجھے پر قرآن نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہو کر آئے ہیں ان کو شکست دے۔اے اللہ ان کو شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ دے۔ان کو اچھی طرح ہلا دے۔صلى الله خصوصا بڑے سوز و گداز کے ساتھ دعائیں پڑھتے ہوئے دن رات مختلف کاموں میں مصروف رہتے تھے اور منتظر تھے اور خوب جانتے تھے کہ کسی لمحہ بھی خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت آنے والی ہے۔وہ کب اور کیسے آئیگی کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اس کے آنے میں آنحضور اور آپ کے ساتھیوں کو ایک ادنی سا بھی شک نہ تھا۔آخر وہ لمحہ آن پہنچا جومحمد مصطفی ﷺ کی دعاؤں کی قبولیت کا نشان تھا اور وہ رات آگئی جو سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ کا نظارہ دکھانے آئی تھی۔ہوا میں کچھ لہک، کچھ تیزی سی آنے لگی اور دیکھتے دیکھتے وہ ایک تیز و تند آندھی میں تبدیل ہوگئی۔وہ آندھی کیا تھی ایک نمونہ قیامت تھا جس نے کفار کے لشکر میں ایک کھلبلی سی مچادی اور زلزلہ