خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 396

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 396 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء هُنَالِكَ ابْتِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُةَ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَتْ طَابِفَةٌ مِّنْهُمْ يَاهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِى يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا (الاحزاب ۱۱ ۱۴) ترجمہ: وہ وقت جب دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نشیب کی طرف سے بھی تم پر چڑھ آیا تھا اور جب آنکھیں خوف و ہراس سے ٹیڑھی ہو رہی تھیں اور دل دھڑکتے ہوئے حلق تک آگئے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔اس وقت مومن ایک بڑی آزمائش میں سے گزر رہے تھے اور شدید زلزلے کے جھٹکوں میں مبتلا کئے گئے۔وہ وقت جبکہ منافق اور دلوں کے بیمار یہ کہنے لگے کہ خدا اور رسول نے ہم سے محض ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا اور ایک گروہ ان میں سے یہاں تک کہنے لگا کہ اے مدینہ والو! تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں پس مرتد ہو جاؤ۔اور ایک گروہ ان میں سے یہ کہہ کر نبی سے اجازت مانگنے لگا کہ ہمارے گھر دشمن کی زد میں ہیں حالانکہ وہ گھر دشمنوں کی زد میں نہ تھے اور محض فرار کا ارادہ کر رہے تھے۔اس مہیب دور میں جبکہ دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ ساتھ دفاع کی ذمہ داریاں بٹ رہی تھیں اور عقب میں پیدا ہونے والے یہودی خطرہ کے علاوہ منافقین اور کمزور ایمان والے کھلم کھلا ساتھ چھوڑنے لگے تھے حقیقتا مسلمانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے کا سا عالم تھا۔قرآن کریم نے ان حالات کو شدید زلزلے کا نام دے کر اس تمام کیفیت کو بیان کر دیا جو مومنوں پر گزر رہی تھی لیکن ایسے خوفناک حالات میں جبکہ گویا زمین تہ و بالا ہورہی تھی ، اوپر سے چھتیں گر رہی تھیں اور نیچے سے زمین پھٹ رہی تھی مومنوں کی آنکھیں جس مستقبل کو قریب تر آتے ہوئے دیکھ رہی تھیں وہ ان حالات کے طبعی اور منطقی نتیجہ سے بالکل مختلف تھا۔اس وقت ایمان کی بصیرت سے منور آنکھوں نے جو کچھ دیکھا وہ خدا تعالیٰ کی شہادت کے مطابق یہ تھا: