خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 393
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 393 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء اپنی طرف سے کوئی مددگار بھیج دے۔لیکن یہ دعا ان لفظوں میں کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو آپ کا رب ہر وقت آپ کے حال سے باخبر تھا۔پس آپ کو اس فکر میں غلطاں پا کر کہ خندق کا ایک حصہ حفاظت سے خالی پڑا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مددگار آپ کو مہیا فرما دیا۔یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے لائق نہیں کہ اس کمر توڑ دینے والی تھکاوٹ کے وقت اس رضا کار کو کیسے ہمت پڑی کہ از خود آپ کے خیمہ کی حفاظت کے لئے حاضر ہو جائے۔دراصل یہ اسی عشق کا کرشمہ تھا جو دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا ورنہ کسی فرزانہ کا یہ کام نہ تھا۔صحابہ پر وہ دن ایسے سخت اور بوجھل تھے کہ تاریخ اسلام میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔وہ جان نثار جو آنحضور کی ایک جنبش لب پر سو جانیں نچھاور کرنے کو تیار رہا کرتے تھے ان کی لاغری کا اب یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آنحضور نے رات کو ایک اہم کام کے لئے صحابہ کو آواز دی مگر کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔آپ نے نام لے لے کر ابو حذیفہ کو بلایا مگر کامل سکوت طاری رہا۔آخر حضور خود تلاش کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے جہاں ابو حذیفہ لیٹے ہوئے تھے اور پاؤں سے ان کے جسم کو جنبش دے کر فرمایا ابو حذیفہ ! اس وقت انہوں نے عرض کی جی یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا کیا تم میری آواز نہیں سن رہے تھے جب میں تمہیں بلا رہا تھا ؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! اس تو رہا تھا لیکن سردی کی شدت اور نقاہت کا عالم تھا کہ جواب دینے کی بھی طاقت نہ تھی۔یقیناً حد سے بڑھی ہوئی بے بسی اور نا طاقتی ہی مانع ہوگی ورنہ یہ صحابہ تو وہ تھے جن کا گزشتہ کردار ہمیں بتاتا ہے کہ جان کنی کی حالت میں بھی جب رسول خد کا نام لے کر ان کو بلایا گیا تو جان کا آخری قطرہ لبوں تک آ گیا اور سوکھے ہوئے ہونٹوں سے سرگوشی کرتی ہوئی یہ آواز اٹھی کہ میں حاضر ہوں۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۹۷، ۴۹۸) پس خود آنحو کی آواز سن کر صحابہ کا خاموش رہ جانا بتا رہا ہے کہ بشری طاقت سے معاملہ تجاوز کر چکا تھا۔آنحو ما ابو حذیفہ کو ایک اہم مشن پر دشمنوں کے لشکر میں بھیجنا چاہتے تھے۔آپ کے ارشاد پر جس طرح بھی بن پڑا ابو حذیفہ اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ اٹھ تو میں کھڑا ہوالیکن جان مجھ میں اس وقت پڑی جب آنحضور ﷺ نے میرے لئے دعا کی۔اس وقت خدا جانے مجھ میں کہاں سے طاقت آگئی، نہ کمزوری کا احساس باقی رہا نہ سردی کا آزار۔پس وہ