خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 389
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 389 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء کریم میں بھی ذکر ملتا ہے، جنگ عظیم ثانی کے نازی طریق جنگ سے بہت ملتا جلتا تھا اور بلا شبہ کسی دشمن کی کمر توڑنے کے لئے اس سے زیادہ زبر دست حربہ نہیں سوچا جا سکتا۔ہتھیار کیسے ہی کیوں نہ ہوں اگر ہمت ہی کی کمر ٹوٹ جائے تو سپاہی لڑ نہیں سکتا اس لئے کسی حملہ آور کے لئے اس سے بہتر اور کیا طریق جنگ ہو سکتا ہے کہ لڑائی کے بغیر ہی دشمن کو زیر کر لیا جائے۔ششم : یہ کہ یہودی قبیلہ بنو قریظہ سے ساز باز کی جائے کہ وہ مسلمانوں سے اپنے عہد و پیمان توڑ دیں اور جب کفار کا لشکر ایک عام یلغار کرے تو یہودی مسلمانوں کی پشت پر سے حملہ آور ہوں۔آنحضور کی صداقت کا ایک روشن ثبوت عرب سرداران نے اس خطر ناک سکیم پر آغاز ہی سے عمل شروع کر دیا جس سے مسلمان مجاہدین کی مشکلات اور تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور سب سے زیادہ ان مصائب کا اثر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر پڑا۔حیرت ہوتی ہے کہ بظاہر اس ناممکن بو جھ کو آپ نے کیسے اُٹھائے رکھا اور کیوں آپ کے پائے عزم و ثبات میں ایک ادنی سی لغزش بھی نہ آئی۔آپ کی بے مثل قوت کا راز در اصل تعلق باللہ اور دعاؤں میں تھا۔آپ مسلسل دردناک دعاؤں کے ذریعہ اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کرتے رہے اور اسی سے مدد مانگتے رہے۔بظاہر امید کی کوئی بھی تو کرن دکھائی نہ دیتی تھی اور دنیا کے پیمانوں سے جانچا جائے تو ایک ہی دن میں سارالشکر اسلام مایوسی کا شکار ہو جانا چاہئے تھا۔جس لشکر کے آب و دانا کی یہ کیفیت ہو کہ دشمن کے محاصرہ سے پہلے ہی تہی دامن اور فاقہ مست ہو چکا ہو ایسے قومی اور ہولناک محاصرے کے وقت اس کی کیا حالت ہوسکتی ہے؟ پھر منافقین کا باتیں بنانا اور طعن و تشنیع کی چھریاں چلانا اور کمزور ایمان والوں کی یہ حالت کہ خوف و ہراس سے صلى الله آنکھیں پتھرا رہی ہوں اور موت کی سی غشی طاری ہو، آنحضور ﷺ اور آپ کا صبر ہی تو تھا جو ایسے میں مومنوں کی ڈھارس بنا ہوا تھا۔اور یہ آنحضور ﷺ کی صداقت پر غیر متزلزل ایمان ہی تو تھا جس سے وہ زندگی کی قوت پارہے تھے۔ہم بلا خوف وتر دید کہ سکتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے کبھی کسی نبی کی صداقت پر ایمان لانا ایسا دشوار نہیں ہوا جیسا احزاب کے پر خطر ایام میں محمد مصطفیٰ کی صداقت پر ایمان لانا تھا۔اور کبھی کسی نبی کی صداقت کو ایسا امتحان پیش نہیں آیا جیسا آنحوم کی صداقت کو