خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 388

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت رحمت کے پانی کی کوئی بوند نام کو ن تھی۔388 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء اواخر فروری میں اس لشکر جرار نے جس کی تعداد بارہ سو مسلمان مجاہدین کے مقابل پر کم و بیش ہیں چھپیں ہزار تھی ، مدینے کو مشرقی جانب سے شمال تا جنوب اپنے گھیرے میں لے لیا۔یہ لشکر تین فوجوں میں بٹا ہوا تھا۔لشکر کا ایک حصہ جو بنی غطفان پر مشتمل تھا عینیہ بن حصن فرازی کی سرکردگی میں تھا۔لشکر کا دوسرا حصہ جو بنو اسد پر مشتمل تھا کی کمان طلحہ کر رہا تھا اور لشکر کا تیسرا حصہ جو قریش کے قبائل پر مشتمل تھا اس کی کمان ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جو سالا راعظم بھی تھا۔جب سرداران لشکر نے مسلمانوں کے اور اپنے درمیان خندق کو حائل دیکھا تو ایک ایسی جنگی حکمت عملی اختیار کی جو مسلمانوں کے لئے انتہائی پریشان کن اور اعصاب شکن بن گئی اور لمبے عرصہ تک کسی بھی فوج کے لئے اسے برداشت کرنا ممکن نہ تھا۔مسلمان چونکہ سخت تھکے ہوئے ، کم تعداد اور فاقوں کے ستائے ہوئے تھے اس لئے کفار مکہ نے موقع محل کے مطابق جو جنگی منصوبہ بنایا اس کے خد و خال یہ تھے: اول : جب تک فاقوں سے تنگ آکر مسلمان یا مر نہ جائیں یا ہتھیار نہ ڈال دیں محاصرہ قائم رکھا جائے۔دوم : خندق کے کمزور حصوں کی نشاندہی کر کے مسلسل ان پر حملے کئے جائیں تا کہ اگر کسی جگہ سے خندق کو پاٹا جاسکے تو عام ہلہ بولنے کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔سوم : بہترین سواروں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں خندق کے تنگ حصوں کو پھلانگ کر مسلمانوں کی چوکیوں پر حملہ کرتی رہیں۔چهارم مختلف وقتوں میں مختلف سمتوں سے ہونے والے یہ حملے دن کے علاوہ رات کو بھی جاری رکھے بائیں تا کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی چین نصیب نہ ہو۔اپنے ایجنٹوں اور منافقوں کے ذریعہ ان میں انتہائی حوصلہ شکن باتیں پھیلائی جائیں اور آنحو کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈا کیا جائے کہ فتح و نصرت اور غلبہ کے جو وعدے تم سے صلى الله کرتا رہا ہے سب جھوٹے ہیں۔عرب کے چند قبائل کے مقابلہ کی تو طاقت نہیں اور سلطنت روما اور ایران کی فتوحات کی باتیں کر رہا ہے۔یہ ففتھ کالم (Fifth Column) پروپیگنڈا جس کا قرآن