خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 387 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 387

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 387 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ سے تقدیر کا سب انداز ہی بدل جاتا ہے۔اب جابر مہمان اور آنحضور میزبان بنے والے تھے۔فرماتے ہیں میرے آئے بغیر نہ آئے کو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ہنڈیا سے ڈھکنا اٹھایا جائے۔گویا وہ گھر اللہ کے حکم سے آپ کے تصرف میں دے دیا گیا تھا اور آپ کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ اپنی مالکیت اور رزاقیت کی ایک نئی شان دکھانا چاہتا تھا۔سارے واقعہ پر دوبارہ گہری نظر ڈال کر دیکھ لیجئے آنحضور ﷺ کا سب انداز صاحب خانہ کا سا نظر آئے گا۔چنانچہ آخر پر جب سب لشکر سیر ہو چکا اور ابھی بہت سا کھانا بچا ہوا تھا تو آپ نے جابر اور ان کی اہلیہ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ اور لوگوں کو بھی تحفہ کے طور پر بھیجو کیونکہ بھوک نے لوگوں کو ستارکھا ہے۔ادنی سی عقل رکھنے والا بھی دیکھ سکتا ہے کہ جو کھانا ایک بھو کے لشکر کی یلغار کے بعد بھی بچ گیا تھا یقیناً وہ بکری کا ایک لیلا اور جو کا تھوڑ اسا آٹا تو نہ تھا جو جابر کی ملکیت تھا بلکہ آسمان سے اترا ہوا وہ مائدہ تھا جو آنحضور ﷺ اور آپ کے ساتھ کے درویشوں کے لئے اتارا گیا تھا۔دوسرا دور صلى الله نظیم کی آمد اور محاصرہ شدید تکلیفوں کا یہ دور جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہ تو ابھی آغاز کی باتیں تھیں اور آئندہ سخت تر پیش آنے والی تکالیف کے لئے گویا تیاری کا زمانہ تھا۔یہ محض تصرف الہی تھا کہ خندق کی تکمیل سے پہلے دشمن وہاں نہیں پہنچ سکا لیکن جو نہی خندق مکمل ہوئی مختلف سمتوں سے بیابانی غولوں کی طرح دشمن کے دستے مدینے کے شمال اور مغرب اور جنوب میں اترنے شروع ہوئے۔ان میں کفار مکہ بھی تھے جن کے سینوں میں حسد کی آگ بھڑک رہی تھی اور بنونضیر بھی جو اپنی شرمناک جلا وطنی کی بناء پر انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔اور ان دونوں دشمنوں کے حلیف وہ متعدد بدو قبائل تھے جو اپنی وحشت اور جاہلیت اور بربریت میں شہرت یافتہ تھے اور تہذیب اور انسانیت اور شرافت اور عفو سے عاری بھو کے صحرائی بھیڑیوں کی طرح حملہ کرنا ان کی سرشت میں داخل تھا۔یہ سب غول بیابانی ہولناک کالی گھٹاؤں کی طرح امڈ کر آئے اور مدینہ کے مشرقی افق کو شمال تا جنوب تاریک کر دیا۔یہ گھٹا ایسی تھی جس میں ظلمتیں بھی تھیں اور رعد و برق کے کڑ کے بھی لیکن