خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 386

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 386 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء کا یہ اسلوب حسن معاشرت کی جان ہے اور ہر زمانہ کے انسان کے لئے اس میں سبق ہے۔اگر اس صورت حال کو مزید غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دراصل صحابہ کی فدائیت ان کی ذاتی صفت نہ تھی بلکہ ایک صفت منعکہ تھی یعنی آنحضور کی اس شفقت کا پر تو تھی جو دراصل آپ ہی کی ذات سے پھوٹتی اور صحابہ کی جانب بہتی تھی جس کا قرآن کریم ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے: عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبه : ۱۲۸) یعنی اس رسول پر بہت شاق گزرتا ہے کہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچے۔پس تمہارے دکھ یہ اپنی جان پر لے لیتا ہے۔دیکھو یہ مومنوں سے کیسی رافت اور رحمت کا سلوک کرنے والا ہے۔یہ صلى الله آنحضور کی رافت اور رحمت ہی تھی جس نے صحابہ کے دلوں کو اپنی محبت میں ایسا فریفتہ کر رکھا تھا کہ وہ پکھل پگھل کر آپ کے قدموں میں بہنے کے لئے مچلا کرتے تھے۔حضرت جابر نے بھی اس جذبہ سے مجبور ہو کر اپنے گھر کی ساری پونجی آنحضوں کے قدموں میں ڈال دی لیکن یہ ناممکن تھا کہ وہ رؤف رحیم آقا شدید فاقہ کشی کے ان سخت ایام میں اپنی بھوک مٹانے کے لئے چل پڑتا جبکہ دیگر ساتھی اسی طرح بھوک سے بلک رہے ہوتے۔چونکہ محمد مصطفة صلى الله کا خدا سب سے بڑھ کر اپنے بندے کی فطرت اور اداؤں سے واقف تھا اس لئے اس نے بھی اس موقع پر ایسے پیار اور قرب کا اظہار فرمایا کہ دل پھڑک اٹھتا ہے۔جب جابر نے اطلاع صلى الله دی کہ حضور کھانا تیار ہے چند دوسرے خدام کو بھی ساتھ لے چلیں۔تو آنحضور ﷺ نے معا یہ سوال کیا کہ کتنا کھانا ہے؟ کھانے کی تفصیل سن لینے کے بعد یہ جان کر کہ بمشکل چند بھو کے لوگوں کے لئے کافی ہو سکتا تھا۔آپ کا یہ فرمانا کہ بہت ہے اور ساتھ ہی سارے لشکر اسلام کو دعوت عام دے دینا کہ چلو چلیں جابر نے ہماری دعوت کی ہے آپ کے ایثار اور توکل علی اللہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔آپ جب اپنے رب کی خاطر ایثار اور توکل کا یہ عجیب نمونہ دکھا رہے تھے تو یوں لگتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اس وقت آپ کو یہ بشارت دے رہا تھا کہ اے میرے بندے! تو کھانے کی مقدار کیوں پوچھ رہا ہے؟ میں جانتا ہوں جو تیرے دل میں ہے۔پس تجھے بشارت ہو کہ کھانا اتنا ہے کہ جو اس وقت تک ختم نہ ہوگا جب تک تیرا اور تیرے محبوب غلاموں کا پیٹ نہ بھر جائے۔اس وقت