خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 385
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 385 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء چنانچہ میں نے اسے ذبح کیا، جو پیسے، آٹا گوندھا اور ہانڈی چولہے پر چڑھا دی۔جب آٹا روٹی پکانے کے قابل ہو گیا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب ہو گئی تو میں آنحضر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔آپ ایک دو آدمی ساتھ لے کر تشریف لے آویں ، کچھ کھانا تیار کیا ہے۔آپ نے پوچھا کتنا کھانا ہے؟ میں نے آپ کو تفصیل بتائی۔آپ نے فرمایا بہت ہے۔پھر آپ نے فرمایا اپنی بیوی کو جا کر کہو کہ وہ نہ چولہے سے ہنڈیا اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔پھر آپ نے مہاجرین اور انصار کو کہا چلو جا کر کھانا کھا آئیں جابر نے ہماری دعوت کی ہے۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو بہت گھبرایا اور بیوی سے کہا خدا تیرا بھلا کرے آنحضرت ﷺ کے ساتھ تو مہاجر اور انصار سب آگئے ہیں اب کیا بنے گا؟ میری بیوی نے پوچھا کیا حضور نے جب تم سے کھانے کی تفصیل پوچھی تھی تو تم نے بتا دیا تھا میں نے کہا ہاں سب کچھ بتا دیا تھا۔اس نے کہا تو پھر گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔بہر حال حضور نے لوگوں کو کہا اندر آجاؤ لیکن بھیٹر نہ کرنا۔پھر آپ نے روٹی توڑی اور اس پر گوشت ڈالا اور ہنڈیا اور تنور کو ڈھانپ دیا۔آپ اس سے کچھ کھانا لیتے اور اپنے ساتھیوں کے سامنے رکھتے۔اس طرح روٹی توڑ توڑ کر اس پر سالن ڈالتے گئے اور لوگوں کو کھلاتے گئے۔یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے اور ابھی کافی کھانا بچا ہوا تھا آپ نے فرمایا تم خود بھی کھاؤ اور بطور تحفہ دوسروں کو بھی بھیجو کیونکہ بھوک نے لوگوں کوستا رکھا ہے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق) سیرت محمدی کا یہ واقعہ نہایت لطیف اخلاقی تعلیم کا حامل ہے جس کا باریک نظر سے مطالعہ ضروری ہے۔دراصل آنحضو کے حسن سیرت کا محض سرسری نظر سے احاطہ ہو ہی نہیں سکتا۔بلکہ قرآن کریم کے معارف کی طرح آپ کی سیرت کے بھی بہت سے بطون ہیں اور ہر پردہ کے پیچھے حسن کا ایک نیا جہان روشن دکھائی دیتا ہے۔سیرت محمدی کے علاوہ اس واقعہ میں صحابہ کی فدائیت اور ایمانی کیفیت کے بھی بڑے دلنشین پہلو نظر آتے ہیں۔جہاں ایک طرف آنحضر ا یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ اجتماعی تکلیف کے وقت اپنے نفس کو دیگر صحابہ پر کسی نوع کی کوئی ترجیح دیں بلکہ وہاں اپنی تکلیف کا حال بھی ان سے مخفی رکھتے تھے۔دوسری طرف صحابہ کی حالت یہ ھی کہ اپنا سب آرام لٹا کر اور جان فدا کر کے بھی اگر آنحضور کو کوئی آرام پہنچا سکتے ہوں تو ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔خادم اور مخدوم کے تعلقات