خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 382

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 382 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء اس کا سینہ شق ہو گیا اور ایک شعلہ بلند ہوا جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا۔پھر دوسری مرتبہ آپ نے ضرب لگائی اور پھر چٹان کے ٹوٹنے کے ساتھ ایک اور شعلہ بلند ہوا جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا۔پھر تیسری مرتبہ آپ نے ضرب لگائی اور ایک اور ماحول کو روشن کر دینے والا شعلہ بلند ہوا اور چٹان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئی اور صحابہ کے لئے ایسی نرم اور عاجز ہوگئی جیسے ریت کا بے جان تو دہ ہو۔اس واقعہ میں غلامان حل کے لئے قیامت تک کے لئے یہ سبق ہے کہ اگر تم محض خدا کی خاطر اس پر تو کل کرتے ہوئے بظاہر اپنی طاقت سے بھی بڑھ کر بوجھ اٹھانے کے لئے آگے بڑھو گے تو خدا خود تمہارے بوجھ اُٹھا لے گا اور تمہارے نحیف اور کمزور بازوؤں کو وہ طاقت بخشے گا کہ بڑی بڑی مضبوط چٹانوں کا سینہ چیر دیں۔تمہارا خدا خود تمہارا کفیل ہو جائے گا اور تمہاری دعاؤں کو قبولیت کا وہ معجزہ عطا کرے گا جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ایک عظیم الشان جزا ان کے نام اور وقار کی عظمت کے لئے جب خدا تعالیٰ نے اس چٹان کو پارہ پارہ کر دیا تو بات یہیں ختم نہیں ہو گئی اور آنحضوں کی قربانی اور ایثار اور عزم اور تو کل کی صرف یہی جزا نہ تھی ، یہ تو محض ایک ابتدائی علامت تھی۔حضرت عمرو بن عوف روایت کرتے ہیں کہ آنحضور چٹان کو تو ڑ کر خندق سے باہر تشریف لائے تو دوران گفتگو صحابہ سے فرمایا بے شک جب میں نے پہلی ضرب لگائی اور اس سے روشنی نمودار ہوئی تو اس کی چمک میں حیرہ کے قصور اور کسریٰ کی سرزمین کے شہر دکھائے گئے اور بشارت دی گئی کہ ان پر میری امت کو اقتدار بخشا جائے گا۔دوسری ضرب لگانے پر جو روشنی نمودار ہوئی اس کی شو میں روم کے سرخ محلات دکھائے گئے اور جبرائیل نے مجھ کو خوشخبری دی کہ ان پر بھی میری امت فتح یاب ہوگی۔تیسری مرتبہ جو میں نے ضرب لگائی اور اس سے روشنی نمودار ہوئی اس مرتبہ بھی مجھے اس کی چمک دھمک میں صنعاء کے محلات دکھائے گئے اور خوشخبری دی گئی کہ ان پر بھی تیری امت کو غلبہ عطا کیا جائے گا۔اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ چٹان کے شق ہونے کا معجزہ محض ایک کھڑکی کی حیثیت رکھتا تھا جو مسلمانوں کے خوش آئند مستقبل کی جانب کھولی گئی تھی جو اس افق کی جانب کھولی گئی تھی جس