خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 379

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 379 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ شار ہوں۔خندق میں ایک بہت بڑا سفید سخت اور چکنا پتھر نکل آیا ہے۔اس سے ہمارے اوزارٹوٹ گئے۔ہم اس کے کھودنے سے تنگ آگئے ہیں اس پر کچھ اثر ہی نہیں ہوتا۔اب جیسا ارشاد عالی ہو ، ہم آپ کے خط سے سرمو تجاوز کرنا پسند نہیں کرتے۔رسول اللل سلمان کے ساتھ خود خندق میں اترے۔آپ کے آتے ہی ہم بقیہ نو آدمی خندق کے اوپر آگئے۔رسول اللہ ﷺ نے سلمان کے ہاتھ سے کدال لی اور اس سے پتھر پر ایک ضرب ماری جس سے وہ ٹوٹ گیا اور اس میں سے بجلی کی ایک ایسی چمک نکلی جس سے تمام مدینہ روشن ہو گیا۔وہ روشنی اس قدر تیز تھی کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ اندھیری کوٹھڑی میں روشن چراغ ہے۔رسول اللﷺ نے تکبیر فتح کہی پھر مسلمانوں نے بھی تکبیر کہی۔دوسری مرتبہ آپ نے اس پر ضرب ماری جس سے اس میں اور شگاف پڑ گیا اور ایسی بجلی کی سی روشنی ہوئی جس سے تمام مدینہ روشن ہو گیا۔معلوم ہوتا تھا کہ اندھیری کوٹھڑی میں چراغ روشن ہے۔آپ نے تکبیر فتح کہی تمام مسلمانوں نے تکبیر کہی اور اب تیسری مرتبہ آپ نے دست مبارک سے اس پر ضرب ماری اور اس مرتبہ اسے بالکل توڑ ڈالا۔تو پھر اس میں سے حسب سابق بجلی کی چمک ہوئی جس سے تمام مدینہ روشن ہو گیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تاریک کوٹھڑی میں چراغ روشن ہو گیا۔رسول اللہ نے تکبیر کہی مسلمانوں نے بھی تکبیر کہی پھر سلمان کا ہاتھ پکڑ کر خندق کے اوپر چڑھ گئے۔“ 66 ( تاریخ طبری جلد ۲ صفحه : ۹۲) اس چھوٹے سے واقعہ کو مختلف زاویوں سے دیکھنے سے آنحضور ﷺ کے خلق عظیم کے مختلف پہلو نظر کے سامنے آتے ہیں۔سب سے پہلے تو تعجب ہوتا ہے کہ اس انتہائی جسمانی محنت اور فاقہ کشی کے زمانہ میں آنحو کے دل میں کیسا غیر معمولی عزم اور ذمہ داریوں کا احساس تھا کہ یہ اطلاع ملنے پر کہ ایک سخت چٹان کسی کوشش سے بھی ٹوٹنے میں نہیں آتی۔آپ اطلاع دینے والے کو یہ جواب نہیں