خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 378
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 378 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء تن ڈھانپنے کو پورے کپڑے بھی میسر نہ تھے۔غرض یہ کہ آنحضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ایسی طویل اذیت ناک گھڑیاں کبھی نہیں آئیں جیسی غزوہ احزاب کے پر آشوب زمانہ میں۔جسمانی مشقت اور شدید بھوک کے اس ہولناک ابتلاء میں آنحضور سب دوسروں سے بڑھ کر تکلیف اُٹھانے والے تھے اور سب دوسروں سے بڑھ کر ان آزمائشوں سے آپ کامیاب و کامران ہو کر نکلے۔اس ضمن میں دو حیران کن مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہوکر خندق کی کھدائی کے دوران مسجد زباب کے پاس جو پارٹی خندق کھود رہی تھی اس میں حضرت سلمان فارسی بھی شامل تھے۔آپ انتہائی مضبوط جسم کے مالک تھے اور بڑے جفا کش تھے۔یہی وجہ ہے کہ گروہ بندی کے وقت انصار اور مہاجرین دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ان میں شمار کئے جائیں اور دونوں اپنے اپنے حق میں دلائل پیش کر رہے تھے لیکن آنحضور ﷺ نے بڑی محبت اور شفقت سے ان کے متعلق فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ که سلمان تو ہمارا ہے اور اہل بیت میں سے ہے۔( تاریخ طبری جلد ۲ صفحه ۹۱، شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۹۲، ۴۹۳) یہ تو خیر ایک ضمنی بات تھی ، میں یہ بتا رہا تھا کہ اس کھدائی کے دوران ایک ایسی سخت چٹان نمودار ہوئی کہ کسی صورت سے ٹوٹنے کا نام نہ لیتی تھی۔حتی کہ حضرت سلمان جیسے غیر معمولی مضبوط انسان کی ضربیں بھی محض بے کار ثابت ہوئیں۔آخر عاجز آکر اس گروہ نے آنحوی ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا جس کا ذکر الله سیرت النبی ترجمه تاریخ طبری میں ان الفاظ میں آتا ہے: " پھر اللہ عزوجل نے خندق کے اندر ایک چکنا سفید بڑا پتھر ظاہر کر دیا۔اس سے ہمارے اوزار ٹوٹ گئے اور ہم اس کے اُکھاڑنے سے تنگ ہو گئے۔ہم نے کہا سلمان ! تم رسول اللﷺ کے پاس اوپر جاؤ اور ان کو اس کی اطلاع کرو تا کہ وہ ہمیں اس پتھر سے ذرا ہٹ جانے کی اجازت دیں کیونکہ اس سے بہت ہی کم فرق پڑے گا۔یا وہ اس کو نکالنے کا حکم دیں تو ہم ویسا کریں گے۔ہم اسے پسند نہیں کرتے کہ آپ کے خط سے سر موتجاوز کریں۔سلمان خندق کے اندر سے چڑھ کر رسول اللﷺ کے پاس آئے۔آپ اس وقت ترکی خیمہ میں بیٹھے تھے۔سلمان نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر