خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 377
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 377 غزوات النبی ہے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء ہوئے اہل بیت کے ساتھ اپنے حصہ کی زمین کی کھدائی فرمارہے تھے۔میں سوچتا ہوں کہ ایسے معزز مزدور دنیا میں ایک ہی بار ظاہر ہوئے جن کی صفوں میں سب دنیا کا سردار ایک عام مزدور کی طرح محنت کر رہا تھا۔اور سب جفا کشوں سے بڑھ کر جفاکشی کے جو ہر دکھا رہا تھا۔b آسمان کی آنکھ نے ایسا نظارہ پہلے کب دیکھا تھا کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةً (الفتح ۳۰) محمد اللہ کا رسول اور وہ خوش نصیب جو اس کے ساتھ تھے یعنی عباد الرحمن کے یہ گروہ جو تخلیق کائنات کا خلاصہ تھے۔وہ جن کی خدمت پر زمین و آسمان کو اور ہر اس چیز کو جوان کے درمیان ہے مسخر کیا گیا تھا خود اپنے رب اور اپنے خالق کے حضور اپنی زندگی کی ساری کائنات مسخر کئے ہوئے سخت جان جوکھوں کی مزدوری میں مصروف تھے۔یہ وہ دن تھے جب تسخیر کائنات کا مضمون اپنے کمال کو پہنچا۔یہ وہ ایام تھے جب مزدوری کے ادنی کام کو وہ شرف نصیب ہوا کہ قیامت تک مزدور سخت مشقت کی گلیوں میں بھی سر اٹھا کر چلے گا اور مزدوری ذلت و نکبت کا نہیں بلکہ عزت و شرف کا نشان بنی رہے گی۔یہ کوئی عام معمولی محنت کام نہیں تھا، کوئی ایسا وقار عمل نہیں تھا کہ کچھ سفید پوش نصف گھنٹے یا گھنٹے کے لئے مٹی کھود نے یا اُٹھانے کا کام کر کے وقار عمل کی عظمت کا احساس لئے ہوئے گھروں کو سدھاریں اور سارے گھر کو فخر سے بتائیں کہ جی ہم وقار عمل سے آ رہے ہیں اور پھر کئی دن تک ہاتھوں کے چھالے سہلاتے رہیں۔یہ تو ایک ایسی سخت جانی کی مزدوری تھی کہ کوہ کن فرہاد کے قصے اس کے سامنے ایک لغو اور کھوکھلا افسانہ دکھائی دیتے ہیں۔دن رات کی اس شدید محنت پر بھوک نے ایک الگ آفت ڈھا رکھی تھی۔اول تو ان دنوں مسلمانوں کی معاشی حالت ویسے ہی بہت کمزور تھی اوپر سے دفاعی مصروفیات نے روز مرہ کے تجارتی کاروبار بند کر دیئے تھے۔علاوہ ازیں بکثرت ان میں ایسے غریب محنت کش صحابہ شامل تھے جن کی معیشت روز مرہ کے ہاتھ کی کمائی پر منحصر تھی۔پھر ایک لمبے نامعلوم عرصہ تک پھیلے ہوئے پیش آمدہ گھیراؤ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا اس لئے جس گھر میں تھوڑا بہت ذخیرہ تھا وہ بھی آئندہ سخت تر وقتوں کے لئے بچا کر رکھا جا رہا تھا۔غرضیکہ حال یہ تھا کہ ایک طرف تو محنت کی غیر معمولی شدت، دوسری طرف خوراک کی غیر معمولی کمی ، اوپر سے موسم سخت سردی کا اور کھلے میدان میں خیمہ کشی جبکہ بہتوں کو