خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 374

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 374 غزوات النبی یہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۶۰۸۹۱ یہ بھی سچ ہے اور اس پہلو سے بھی آپ کو دنیا کے عظیم جرنیلوں پر فوقیت حاصل ہے لیکن یہ تو محض ایک ضمنی اور ثانوی اور ادنی سی بات ہے۔آنحضوﷺ کی شان ہرگز اس امر پر مبنی نہیں کہ آپ نے فنون جنگ کے اعتبار سے سپہ سالاری کے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔آپ کی شان تو اس امر میں مضمر ہے بلکہ ظاہر و باہر اور نصف النہار کے سورج کی طرح روشن ہے کہ آپ مکارم الاخلاق پر فائز تھے اور اخلاقی فتوحات کی وہ بلند چوٹیاں آپ نے سرکیں جن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے پگڑی گرتی ہے۔جنگ احزاب بھی انہی آزمائشوں کی ایک کڑی تھی جن میں آپ کے بلند اخلاق بشدت آزمائے گئے۔یہ ایک ایسا امتحان تھا کہ ایمان اور روحانیت اور اخلاقیات کی دنیا پر گویا ایک زلزہ سا طاری ہو گیا اور اس زلزلے کے متواتر شدید سے شدید تر جھٹکے ایسے آئے کہ غیر مسلم اہل مدینہ تو در کنار نسبتاً کمزور ایمان والے مسلمانوں کی اساس میں بھی دراڑیں پڑ گئیں اور بعض بظاہر بڑی بڑی مظبوط عمارتیں بھی منہدم ہو کر سطح زمین سے پیوست ہو گئیں۔اہل اسلام کی کائنات پر فی الحقیقت یہ وقت ایک ایسے ہی ہولناک زلزلہ کے مشابہ تھا جس کے جھٹکے بار بار محسوس ہوں اور ہر بار پہلے سے بڑھ کر خطر ناک شدت کے ساتھ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس کا ذکر فرماتے ہوئے ایک ہولناک زلزلے کی ہی مثال دیتا ہے: هُنَالِكَ ابْتُلِلَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالَّا شَدِيدًا (الاحزاب : ۱۲) اگر چہ جنگ احزاب کی تفاصیل بیان کرنا تو میرے موضوع میں شامل نہیں لیکن اس موقع پر الله آنحو کے بے نظیر کردار کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ صبر آزما حالات بیان کئے جائیں جن سے آپ کے اخلاق حسنہ کو دو چار ہونا پڑا۔اس غزوہ کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر اگر چہ کفار مکہ کے مقابل پر مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی لیکن اس کے باوجود قریش مکہ اور ان کے سردار اس احساس سے بے چین تھے کہ انہیں جنگ احد کا کوئی بھی ٹھوس فائدہ نہیں پہنچا اور جنگی مصلحتوں اور منفعتوں میں سے کچھ بھی تو حاصل نہ ہوا۔ان کا اصل مقصد تو اسلام کی بیخ کنی اور توحید کا خاتمہ کرنا تھا لیکن جنگ احد کے بعد بھی مسلسل اسلام ترقی پذیر رہا بلکہ پہلے سے بڑھ کر تیز رفتاری کے ساتھ اہل عرب میں نفوذ