خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 373
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 373 غزوات النبی اے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء حالات دیکھے یا پڑھے یا سنے ہوں وہ بلا شبہ گواہی دے گا کہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں مبالغہ سے پاک عین حقیقت ہے۔جرمن فسطائیوں نے خود اپنے ہی بھائی بند سفید فام یورپین لوگوں سے جو کچھ کیا کوئی ڈھکی چھپی راز کی بات نہیں۔اور ایشیا کی مہذب قوم جاپان نے اپنے ایشیائی بھائی انڈونیشیا کے باشندوں سے جو شرم ناک اور ظالمانہ سلوک روا رکھا اس کی یادیں آج بھی ان لوگوں کو لرزہ بر اندام کر دیتی ہیں جو اس بھیا نک دور سے گزرے تھے۔بلا شبہ جاپانی تسلط کا وہ ہولناک دور تمام ہو چکا ہے لیکن اس کا منحوس ڈراؤنا سایہ ہمیشہ انڈونیشیا کی تاریخ پر ایک بھیانک خواب کی طرح مسلط رہے گا۔پس وہ لوگ جو گزشتہ دو عالمی جنگوں کی تاریخ سے کسی قدر واقف ہیں خوب جانتے ہیں کہ ان عالمی جنگوں نے کل عالم میں انسانی اخلاق کے کھوکھلے پن کا ڈھنڈورا پیٹ دیا اور تمام جہان میں انسانی تہذیب و تمدن کی ایسی پردہ دری کی کہ اس دور کا متمدن انسان حیوانوں کی دنیا میں وہ سراُٹھا کر چلنے کے قابل نہ رہتا۔مصلى الله لیکن ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق زمانے کے نشیب وفراز اور حالات کی سختی اور نرمی اور وقت کے گرم و سرد سے آزاد تھے اور کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے اخلاق کریمانہ نے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔دولت اور غربت ، طاقت اور کمزوری ، امن اور جنگ ہر قسم کے تغیرات آپ کی زندگی نے دیکھے لیکن اخلاق حسنہ کا رنگ بدلتے نہ دیکھا۔آنحضو کو جتنے بھی غزوات پیش آئے ان میں سے ہر غزوہ نے اخلاق حسنہ کو ایک نئے رنگ میں نکھار کر پیش کیا۔یوں تو ہر میدان کارزاران لشکروں کے لئے جو مقابلہ کمزور ہوں صبر اور ہمت اور مردانگی اور شجاعت کا امتحان لے کر آتا ہے اور آزاد بلند ہمت ماؤں کے بیٹے ہی ان امتحانوں میں کامیاب ہوا کرتے ہیں۔لیکن آنحضور ﷺ کے غزوات ان امتحانوں کے سوا بھی کچھ امتحان لایا کرتے تھے جو اخلاقی آزمائش کے ایسے کڑے امتحان ہوتے کہ عبادالرحمن کے سوا کوئی ان امتحانوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔پس جب ہم آنحضور ﷺ کے غزوات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر گز یہ مقصد نہیں کہ فنون جنگ کے اعتبار سے آپ کی ایسی شاندار جنگی حکمت عملی کو ابھار کر پیش کیا جائے جس کے سامنے دنیا کے دوسرے بڑے بڑے جرنیلوں کے چہرے پھیکے اور ماند پڑے ہوئے دکھائی دینے لگیں۔مانا کہ