خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 372
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 372 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم (غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء وہ سب اخلاق جو پیارے اور حسین کہلاتے ہیں وہ آپ میں جمع تھے اور سب اخلاق جو کر یہ المنظر اور مکروہ دکھائی دیتے ہیں آپ کا وجود ان سے کلیۂ پاک اور خالی تھا۔آپ کے اخلاق کا ہر رنگ پیارا تھا لیکن بڑی ہی پیاری بات جو آپ کے تمام اخلاق میں یکساں اور برابر نظر آتی ہے وہ ان کی وفا تھی۔آپ یہ سن کر شاید تعجب کریں گے کہ میں یہ کیا بات کہہ رہا ہوں اخلاق اور وفا۔کیا کبھی اخلاق بھی با وفا ہوئے ہیں؟ ہاں ہاں ہوتے ہیں کبھی اخلاق بھی با وفا ہوا کرتے ہیں۔میرے آقا ﷺ کے اخلاق کو دیکھو وہ تو سبھی با وفا تھے، تمام تر سرا پا باوفا۔کبھی کسی انسان کے اخلاق نے اس سے ایسی وفا نہیں کی جیسی ہمارے آقا و مولا کے اخلاق نے آپ سے وفا کی کبھی کسی حال میں بھی تو آپ کو نہ چھوڑا۔کبھی کسی آزمائش کے وقت بھی آپ سے جدا نہیں ہوئے۔آپ کے وہ اخلاق بھی بڑے باوفا تھے جو عموماً غربت اور افلاس میں تو دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن فراخی اور آسائش کے وقت اس طرح ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جیسے کبھی واقف اور آشنا ہی نہ تھے۔آپ کے وہ اخلاق بھی حد درجہ با وفا تھے جو آسائش اور آرام کے وقت ہر کسی کے سکھ کا ساتھی بننے کے لئے آدھمکتے ہیں لیکن مصائب اور آلام کے وقت ساتھ نہیں دیتے اور اس طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے پہلے کبھی ملے ہی نہ ہوں۔یا جیسے پرندہ گھونسلے کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دے۔عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ امن کے زمانہ میں بڑے بڑے با اخلاق کہلانے والے شائستہ لوگ جب جنگ کے حالات سے دو چار ہوتے ہیں تو ان کے اخلاق کا کہیں نام ونشان باقی نہیں رہتا۔یہی حال قوموں کا ہے۔ہم نے بڑی بڑی با اخلاق کہلانے والی مہذب قو میں دیکھی ہیں جن کو جنگ کی آزمائش نے وحشی درندوں میں تبدیل کر دیا اور ان کے تمام اخلاقی ضابطے ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئے اور ایسی سفا کی اور بہیمیت ان سے ظاہر ہوئی گویا وہ انسانیت کے ملمع میں چھپے ہوئے ہولناک درندے تھے جو وحشی بھی تھے اور کمینے بھی ، جو سفاک بھی تھے اور ذلیل بھی۔تہذیب اور تمدن اور انسانیت کا جو غازہ سا انہوں نے چہروں پر مل رکھا تھا جب جنگ کی تند ہواؤں نے اس پاؤڈر کو اڑا دیا تھا تو ایسے مکروہ اور ذلیل وخوار چہرے برآمد ہوئے جو آج کے انسان کی نسبت قدیم زمانہ کے بھیانک جانوروں کے چہروں سے زیادہ مشابہ تھے۔جس کسی نے بھی جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کے