خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 368
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 368 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے اور زخمی ہونے کے بعد سواری پر حضور اپنے دولت خانہ پہنچ گئے مگر وہاں جا کر خود بخود گھوڑے سے اتر نہ سکے۔اس لئے لوگوں نے آپ کو اٹھا کر اتارلیا اور میں (ابوالخذری) حضور کے دونوں رانوں کو دیکھتا تھا۔ان کی کھال چھلی ہوئی اور سکڑی ہوئی تھی اور حضور دونوں سعد ( یعنی سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ ) پر سہارا لگائے لگائے اپنے دولت خانہ میں تشریف لے گئے۔پھر شام کے وقت جب غروب آفتاب ہو گیا اور حضرت بلال نے اذان دی تو حضور اسی طرح دونوں سعد پر سہارا لگائے لگائے باہر تشریف لائے اور پھر دوبارہ اسی طرح اندر تشریف لے گئے اور میں نے یہ بھی دیکھا۔لوگ مسجد میں بیٹھے آگ جلائے ہوئے اپنے اپنے زخموں کو سینک رہے تھے اور داغ دے رہے تھے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہوگئی تو حضرت بلال نے عشاء کی اذان دی مگر دیر تک حضور باہر تشریف نہ لائے اور حضرت بلال آپ کے دروازے پر بیٹھے رہے جب ایک تہائی رات گزر چکی تو حضرت بلال نے آواز دی کہ حضور جماعت تیار ہے نماز کے لئے تشریف لائے چنانچہ آپ اس وقت سوتے سے اٹھ کر باہر تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ آپ بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے تھے پھر آپ نے نماز پڑھی۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۳۲) آج کے تن آسان نوجوان جو ساحل ساحل چلنا جانتے ہیں اور اسلام کے مزے کناروں پر سے ہی لوٹنے کے عادی ہوچکے ہیں ذرا اس وقت کی تصویر ذہن میں جما کر دیکھیں اور سوچیں تو ان کے وہم وگمان سے بھی یہ اندیشہ نہیں گزر سکتا کہ اس شام مسجد نبوی میں مغرب اور عشاء کی نمازیں با جماعت ادا کی گئی ہوں گی۔لیکن ذرا محمد مصطفیٰ کو تو دیکھو کہ کس طرح اپنی ساری قوتیں سمیٹ کر اس گرتی پڑتی نماز کوکھڑا کیا اور ہر دوسرے جھنڈے سے یہ جھنڈا بلند تر کر دیا۔ہر چند کہ آپ کے قدم اس کوشش میں تکلیف اور نقاہت سے لڑکھڑا رہے تھے عبادت الہی کے قدموں میں آپ نے کوئی کمزوری اور کوئی نقاہت اور کوئی لڑکھڑاہٹ نہ آنے دی۔یہ تھے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کر نیوالوں کے سرتاج جن کے قدم رفعت مآب تھے۔سب رفیع الشان جنتیں جن کے پاؤں کے نیچے تھیں۔دنیا کے پہاڑ اور بلند چوٹیاں، ظاہری چاند ستاروں کی رفعتیں اور سات آسمانوں کے دور از قیاس افق آنحضور کی روحانی