خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 367
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 367 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ احد )۹۷۹۱ء ناتواں اور بے ہوش ہورہے تھے اس لئے میں نے ان کے منہ پر پانی چھڑکنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ہوش میں آگئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا خیریت سے ہیں اور مجھے حضور نے ہی تمہارے پاس بھیجا ہے۔سن کر وہ ذرا خوش ہوئے اور بولے خدا کا شکر ہے۔ہر مصیبت کے بعد آسانی ہو جاتی ہے۔شروع الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۴۰، ۳۴۱) آنحضور کا کوئی فعل تصرف الہی سے باہر نہ تھا چنا نچہ اس واقعہ میں تصرف الہی نمایاں طور پر کارفرما نظر آتا ہے آنحضور کا حضرت ابو بکر کو طلحہ بن عبید اللہ ) کی عیادت کے لئے بھجوانا آ۔کا ایک ایسا بر حمل اور بر وقت اقدام تھا جو طلحہ کی جان بچانے کا موجب ہو گیا۔جیسا کہ حضرت ابوبکر کی روایت سے ظاہر ہے۔حضرت طلحہ کی بے ہوشی پر بھی آنحضور ہی کا فکر غالب تھا۔آنکھ کھلتے ہی یہ پوچھا کہ حضور اکرم کا کیا حال ہے؟ اس انتہائی کمزوری کی حالت میں کہ جسم تیروں سے چھلنی تھا اور اس چھلنی جسم کے ہر زخم سے خون بے روک ٹوک بہہ نکلا تھا ایسی بے ہوشی اکیلی ہی موت کی نیند سلانے کے لئے کافی ہوتی ہے لیکن اس نحیف جان کو تو یہ غم بھی لگا ہوا تھا کہ آنحضور کا خدا جانے کیا حال ہوگا۔یہ سب باتیں ایسی تھیں کہ گویا حضرت طلحہ اپنے مرنے کے سب سامان کئے پڑے تھے لیکن یہ مژدہ جانفزا جو سنا کہ آنحضور خیریت سے ہیں تو لبوں سے جان پھر دل کی طرف لوٹ آئی اور دل جو خون سے خالی ہو چکا تھا آنحضور کی محبت کی قوت سے پھر چلنے لگا۔آخری فتح احد کے روز آپ کی آخری مصروفیت عبادت الہی کا قیام تھا۔یہ آخری جھنڈا تھا جو اس روز آپ نے بلند کیا اور ایسا بلند کیا کہ عبادت الہی کا جھنڈا ہر دوسرے جھنڈے سے بلند تر اور بالا اور ارفع ہوکر آسمان روحانیت پر لہرانے لگا۔نماز کو کبھی اپنے قیام کے لئے شاید ایسی سخت آزمائش پیش نہ آئی ہو جیسی شام اُحد کو پیش آئی۔تمام دن کی شدید محنت اور مشقت اور جانکا ہی کے سبب جسم تھکاوٹ کے غلبے سے مٹی ہوئے جاتے تھے تس پر کاری زخموں نے ایک الگ آفت ڈھار کھی تھی۔بوٹی بوٹی اذیت میں مبتلا تھی لیکن دیکھو ایسے حال میں بھی آنحضور نے نماز کو قائم کیا۔راوی بیان کرتا ہے کہ احد میں