خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 34
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 34 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ قانون قدرت کا ایک ایک حرف قانون شریعت کے حق میں گواہی دے گا اور اس کلام کے ایک ایک لفظ پر مہر تصدیق ثبت کرے گا جو خدا کا کلام ہے اور محمد مصطفی ﷺ کے دل پر نازل ہوا۔میرا یہ یقین اس لئے ہے کہ آثار ہمیں یہ بتاتے ہیں اور خدا کا کلام بھی یہی خبر دیتا ہے کہ آئندہ زمانہ کے سب بچے انکشافات وحی الہی کے مطابق ہوں گے۔جیسا کہ فرمایا: إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَبِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا ( الزلزال :۲-۱) جس دن زمین خوب ہلائی جائے گی۔اور اپنے بوجھ اگل دے گی۔اور انسان حیرت اور استعجاب سے کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس روز وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔کیونکہ تیرے رب نے اس پر اس امر کی وحی کی ہے۔زندگی کی پہلی منزل کے ناقابل فہم معمہ کو حل کرنے کے لئے اور ایک بیرونی رب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دہر یہ سائنسدانوں نے اور بھی کئی حل پیش کئے جن میں سے ایک یہ تھا کہ زندگی کی ابتدا ایک لمبے ارتقائی طریق پر ہوئی یعنی پہلی جاندار ہستی بھی ایک دم پوری طرح زندہ نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ تھوڑے تھوڑے زندگی کے آثار اس میں پیدا ہونے شروع ہوئے۔یہ عقیدہ بھی اول تو تاج محل کی اس مثال سے ملتا جلتا ہے جو میں نے پہلے بیان کی تھی اور دوسرے اس کے متعلق سائنسدانوں نے اور بھی بہت سی بحثیں کی ہیں اور آخر کار موجودہ سائنس نے اس کو بھی بالکل بے بنیا د اور خلاف عقل قراردے دیا ہے۔چنانچہ اس بارہ میں میں اوپارین Aleksandr Ivanovich Oparin) کی مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔او پارین جو روس کا دہر یہ سائنسدان ہے اس کو میں نے اس لئے چنا ہے کہ یہ ایک دہریہ کا حوالہ خدا کے حق میں زیادہ قابل قبول ہونا چاہئے۔او پارین روسی ماہر حیاتیات ہیکل (Ernest Heackel) وغیرہ کے اس نظریہ کو صریح غلط قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: تجربہ سے جو بھی حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں وہ اس دعوی کے بالکل برعکس اور صریحاً مخالف ہیں۔ہم کائنات میں کہیں بھی موت سے زندگی کو