خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 35

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 35 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۰ پہلی مرتبہ پیدا ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے۔اور تجربہ گاہوں میں مصنوعی آلات کے ذریعہ زندگی پیدا کرنے کی ہماری تمام کوششیں نا کام (۔۔۔۔)۔“ پس یہ نظریہ کہ زندگی کا ارتقاء خود ہی اپنا رب ہے اسی طرح کا ایک بے بنیا د نظر یہ ثابت ہو رہا ہے جیسے یہ نظریہ کہ اتفاق ہی اس ارتقاء کا رب تھا اور سائنس جوں جوں اس سوال کی چھان بین کرتی چلی جاتی ہے اس کے سامنے اور مشکل اور مشکل سوال ابھرتے چلے آتے ہیں۔وہ زندگی کے بظاہر سادہ نظر آنے والے ذرات جن کے متعلق پہلے سائنسدان بھی سمجھا کرتے تھے کہ ان کا خود بخود پیدا ہونا کچھ مشکل نہیں۔اب نئی تحقیق کی روشنی میں بذات خود اسرار کا ایک جہان اپنے اندر لئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔وہ بالکل ابتدائی قسم کے جاندار بھی بظاہر جن کی شکل ایک مٹی کے آبخورے سے زیادہ عجیب نظر نہیں آتی تھی اب نئی تحقیقات کی روشنی میں نہایت پیچ دار اور پر اسرار دکھائی دے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے ہر جہان میں ان گنت ذرے اور ہر ذرے میں ان گنت اسرار کے جہان پوشیدہ کر رکھے ہیں۔عے کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا ایک دہر یہ سائنسدان کے لئے یہ انکشافات ایک لا متناہی سوالات کی زنجیر بن کر ابھر آتے ہیں۔مگر مومن کی نظر جب ان پر پڑتی ہے تو اس کی روح یہ گواہی دیتے ہوئے سجدہ ریز ہو جاتی ہے کہ ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (الانعام : ۱۰۳) وہ اللہ ہی تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہر چیز کا وہی خالق ہے پس اس کی عبادت کرو وہ ہر چیز پرنگران ہے۔