خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 360

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 360 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر آنحضور یہ جانتے تھے کہ قیامت کے روز ہر شہید اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں وہ جان دے گا۔پس حضور نے زیادہ کو جو جزا دی وہ دنیا کی ہی نہیں آخرت کی بھی بہترین جزا دی تھی۔حضور یہ چاہتے تھے کہ قیامت کے روز ایک سراہاں وہ ایک زیادہ انصاری کا سر میرے ہی قدموں پر زندہ کیا جائے اور میرے ہی قدموں پر زندہ کیا جائے اور میرے ہی قدموں پر سے اٹھایا جائے۔اے احد کی زمین! تجھ پر نثار! تیری داستانیں لازوال ہیں۔تو نے شہیدوں کے خون سے آسمان شہادت پر کیسے کیسے رنگ بھرے اور کیسے کیسے دل نواز نقش و نگار بنائے ہیں۔ایک عجیب ایفائے عہد اور آپ کی صداقت پر دشمن کی گواہی ابی بن خلف ایک جنگجو مشرک تھا جس کا بیٹا غزوہ بدر میں قیدی بنایا گیا تھا۔وہ ایک مرتبہ اپنے بیٹے کو رہائی دلانے کے لئے اور دیت کی رقم طے کرنے مدینہ آیا تو آنحضور سے کہا کہ میرا ایک بڑا منہ زور اور تنومند گھوڑا ہے جسے میں اس نیت سے جو کھلا کھلا کر خوب ہٹا کٹا کر رہا ہوں کہ ایک دن اس کی پیٹھ پر سوار ہو کر آپ کو قتل کروں۔آنحضور نے جوا با صرف اتنا فرمایا کہ انشاء اللہ میں ہی تجھے قتل کروں گا اور حضور کا یہ قول اس کی تقدیر بن کر آسمان پر لکھا گیا۔جنگ احد کے اختتام پر جب دشمن کے سیہ بادل چھٹ گئے اور میدان ٹھنڈا پڑ گیا تو آنحضور احد کے دامن میں ایک محفوظ مقام پر اپنے صحابہ کے ساتھ کچھ عرصہ سستانے کے لئے ٹھہرے۔اچانک ایک سوار نمودار ہوا جو ایک خاص ارادہ سے سر پٹ گھوڑا دوڑاتا ہوا اس طرف بڑھا چلا جارہا تھا۔دیکھا تو یہ ابی بن خلف تھا جو اسی گھوڑے پر سوار آنحضرت کے قتل کی نیت سے بڑھا چلا آرہا تھا۔آنحضور کے گرد صحا بہ گھیرا باندھے کھڑے تھے انہوں نے اجازت طلب کی کہ وہ اس حملہ آور کا کام تمام کردیں۔ہر چند کہ تمام دن کی خوفناک جنگ کے باعث حضور سخت تھکے ہوئے تھے ،سر زخمی تھا، چہرہ زخمی تھا، دندان شہید ہو چکے تھے ، خون اتنا بہا تھا کہ کسی صورت تھمنے میں نہ آتا تھا ، پتھریلی زمین پر گرنے کے باعث دونوں گھٹنے چوٹ کھائے ہوئے اور بری طرح چھلے ہوئے تھے۔آپ کی عمر اس وقت چھپن برس تھی۔ہر چند کہ یہ تمام امور قدم تھامے ہوئے تھے۔آنحضور کے عزم کی ایک جنبش نے یہ زنجیریں توڑ ڈالیں۔ایفائے عہد کا تقاضا ہر مصلحت اور مجبوری پر بلا تردد غالب آ گیا۔آپ نے