خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 359

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 359 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء نے عاشقوں کو دیوانہ سا کر دیا۔انصار میں حضرت زیادہ بن سکن کے کانوں میں جب یہ آواز پڑی تو انصار کی ایک ٹولی لے کر جن کی تعداد پانچ یا سات بیان کی جاتی ہے کودتے اور پھلانگتے ہوئے حضرت محمد مصطفی کے حضور حاضر ہو گئے اور اس بے جگری سے آپ کے سامنے لڑے کہ دشمن کی ہر یلغار کو بار بار پسپا کر دیا یہاں تک کہ زخموں سے چور چور ہو کر وہ سب کے سب میدان جہاد میں کٹ کٹ کر گرے۔اتنے میں حضور کی دعوت عام پھیل گئی اور جس جس نے بھی سنی وہ دوڑتا ہوا حضور کی طرف لپکا اور ایک بڑی جماعت جان شاروں کی آپ کے گرد اکٹھی ہوگئی اور دشمن کا حملہ کلیہ ناکام و نا مراد بنادیا گیا۔رض تب حضور اکرم نے صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ جاؤ اور زیادہ کو میرے پاس لاؤ۔حضرت زیادۃ کے سب ساتھی شہید ہو چکے تھے لیکن ان میں ابھی کچھ جان باقی تھی۔ہر چند کہ چودہ گہرے زخم لگے تھے جن میں سے ہر ایک جان لینے کے لئے کافی تھا، خدا کی تقدیر نے ایک خاص مقصد کے لئے ان کے چھلنی بدن ہی میں جان کو روک رکھا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جان نثار عاشق کو اس فدائیت کی ایک جزاد نینی تھی اور جب تک یہ نہ ہو جا تا موت کور کے رہنے کا اذن تھا۔پس آنحضور رض کے حکم پر جب صحابہ نے زیادہ کے چور چور بدن کو حضور کے قریب ڈال دیا تو حضور نے فرمایا اسے میرے اور قریب کرو۔صحابہ نے تعمیل ارشاد کی اور فرمایا اور بھی قریب کرو۔یہاں تک کہ جب وہ عین قدموں میں لٹا دیئے گئے تو آنحضور نے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور فرمایا اس پاؤں پر اپنا سر رکھ دو۔پس حضرت زیادہ نے اپنا سر آپ کے قدموں پر رکھ کر آخری سانس لیا اور جان جان آفرین کے سپرد کردی۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۲۲۔۳۲۳) اللہ ! اللہ کسی عاشق اور معشوق کے درمیان ایسا ناز و نیاز کا ماجرا پہلے کب آسمان کی آنکھ نے دیکھا تھا۔حضور کی اس شان محبوبی کے شار، دلداری کی تو آپ نے حد کر دی۔کیسے اس جان نثار کی دلی آرزو پوری کی ! کیسے اس وفا شعار سے وفا کی اور اپنے قدموں پر اس کا سر رکھ کر ہر سر بلند سے اس سر کو بلند تر کر دیا۔بلاشبہ ہر دیکھنے والے کی آنکھیں ہزار حسرت سے اس شار محمد کو دیکھ رہی ہوں گی اور ہر دل میں رشک کی آگ سی بھڑک اٹھی ہوگی کہ کاش اس سر کی بجائے ہمارا سران قدموں پر دھرا ہوتا۔لیکن حضور کے اس فعل کی حکمت اس سے کہیں زیادہ گہری تھی جو بظاہر دکھائی دیتی ہے۔